دارالسلام ۔ 2فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) تنزانیہ کے ایک اوپن ایئر عیسائی گرجا گھر کے مذہبی اجتماع کے دوران بھگدڑ مچ گئی ۔ عہدیداروں نے اتوار کے دن کہا کہ یہ گرجا گھر ملک کے شمالی علاقہ میں واقع ہے ۔ سرکاری عہدیدار کپی وری اوبا ضلع کمشنر شمالی قصبہ موشی نے کہا کہ انہیں اندیشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہفتہ کی دوپہر یہ سانحہ پیش آیا تھا ۔ تاحال 20ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہیں ۔ زخمیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ممکن ہے ۔ کم از کم دیگر 16 بھگدڑ کے دوران کچل کر زخمی ہوئے ۔ یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب کہ عیسائی لوگ دعائیہ اجتماع میں شرکت کررہے تھے جو مقبول عوام مبلغ بونی فیز مامپوسا کی زیرقیادت منعقد کیا جارہا تھا ۔مامپوسا شعور کی بیداری اور درخشاں وزارت تنزانیہ کے صدر ہیں ۔ بھگدڑ کا واقعہ اُس وقت پیش آیا جو مومپوسا جو اپنے آپ کو مبلغ عیسائیت کہتے ہیں ۔ کہا کہ زمین پر مقدس تیل گرگیا ہے اور ہجوم کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ کیونکہ کئی سیاح بیماری کے علاج کیلئے تنزانیہ آئے ہیں ۔ مبلغ بونی فیز مومپوسا نے مقدس علاج کرنے والا تیل زمین پر چھڑکا ۔ ایک آئینی شاہد جنیفر ٹومو نے کہا کہ کئی افراد فوری طور پر بھگدڑ کے دوران پھسل کر گرگئے اور ان میں سے بعض افراد کی موت واقع ہوگئیں ،20ہلاکتوں کی توثیق ہوچکی ہے لیکن کئی افراد ہنوز زخمی ہیں ۔تنزانیہ کی پولیس کے سربراہ سائمن سیرو نے 20ہلاکتوں کی توثیق کی ہے ۔ وہ قومی ٹی وی پر اتوار کی صبح عوام سے اپیل کررہے تھے کہ وہ اُن سے غیر ضروری سوالات نہ کریں ۔ پیرو نے کہا کہ سرکاری زیرانتظام آئی بی سی آئی ٹی وی چینل عوام سے مخاطب ہونے کیلئے انہیں مختص کیا گیا ہے ۔ پولیس رپورٹ کے بموجب وہ بہت مشہور ہیں اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ وہ یہاں سے فرار ہوگئے تھے ۔