جگتیال میں مادر اینڈ چائلڈ ہیلت سنٹر کا افتتاح ، بعد ہریش راؤ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 4 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاستی وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے ریاست میں نارمل ڈیلوریز کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے سیزرین کے لیے توہم پرستی کا شکار ہوتے ہوئے مخصوص تواریخ میں ڈیلوریز کرانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس سے تلنگانہ کو نجات دلانے کا مطالبہ کیا ۔ جگتیال میں ریاستی وزیر کے ایشور کے ساتھ 100 بستروں پر مشتمل مادر اینڈ چائیلڈ ہیلت سنٹر کا افتتاح کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ وینکٹیش اور رکن اسمبلی سنجے کمار کے علاوہ دوسرے قائدین موجود تھے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت صحت کے شعبہ کو ملک میں سرفہرست کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے ۔ قبل از وزیر صحت نے جگتیال شہر میں میڈیکل و نرسنگ کالجس کی تعمیرات کا معائنہ کیا ۔ بعد ازاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا بحران کے دوران فیور سروے کے معاملے میں ریاست تلنگانہ ملک کے دوسرے ریاستوں کے لیے مثالی ریاست ثابت ہوئی ہے ۔ آشا ورکرس نے بہت اچھا کام کیا ہے ۔ آشا ورکرس کی کارکردگی سے چیف منسٹر کے سی آر بہت زیادہ متاثر ہے ۔ اس لیے ان کی تنخواہوں میں تین مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ سال 2014 میں ان کی تنخواہیں 1500 روپئے تھی جس میں اضافہ کرتے ہوئے 9750 روپئے کیا گیا ہے ۔ گجرات میں آشا ورکرس کی تنخواہ 4000 روپئے اور راجستھان میں 3000 روپئے ہے جب کہ مدھیہ پردیش میں بھی 3000 روپئے ہی ہے ۔ وزیر صحت نے کہا کہ ضلع جگتیال کے سرکاری ہاسپٹلس میں ڈیلوریز کا تناسب 44 فیصد ہے ۔ کے سی آر کٹس اور طبی سہولتوں کی فراہمی کے باوجود 66 فیصد ڈیلوریز خانگی ہاسپٹلس میں کیوں ہورہی ہیں ۔ اس کی عہدیداروں سے وضاحت طلب کی ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے سرکاری ہاسپٹلس میں بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے بعد سرکاری ہاسپٹلس میں ڈیلوریز کا تناسب 30 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد ہوجانے کا دعویٰ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 108 اور 102 ایمبولنس کی سہولت بھی دستیاب ہے ۔ لڑکی کی پیدائش پر 13,000 روپئے معاوضہ ادا کیا جارہا ہے ۔۔ ن