تہور رانا 18روزہ تحویل میںاین آئی اے کے حوالے

   

نئی دہلی: قومی راجدھانی کی پٹیالہ ہاؤس خصوصی عدالت نے گزشتہ روز 26/11 ممبئی حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تہور رانا کو 18دنوں تک قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی تحویل میں بھیج دیا۔ این آئی اے نے 20 دن کی ریمانڈ طلب کی تھی۔این آئی اے نے رانا کو آج اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اپنی حراست میں لیا تھا۔ انہیں حوالگی کی طویل کارروائی کے بعد آج امریکہ سے خصوصی طیارے کے ذریعہ ہندوستان لایا گیا۔تفتیشی ایجنسی نے رانا کو پوچھ گچھ کے سلسلہ میں ریمانڈ پر لینے کیلئے شام کو این آئی اے کے خصوصی جج چندر جیت سنگھ کی عدالت میں پیش کیا تھا ، جہاں اس نے 20دنوں کی تحویل طلب کی تھی۔ سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو 18 روزہ ریمانڈ پر تفتیشی ایجنسی کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

تہور رانا کی حوالگی ممبئی والوں کے زخموں پر مرہم: فڑنویس

ممبئی: چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڑنویس نے جمعہ کے روز کہا کہ 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ تہور رانا کی حوالگی نے ممبئی والوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا کام کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی انصاف کی سمت ایک اہم قدم ہے ۔فڑنویس نے یاد دلایا کہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی کی کئی عمارتوں اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 166 افراد ہلاک اور 238 سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔ اس واقعے میں ایک ملزم اجمل قصاب کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے پھانسی دی گئی تھی۔ تاہم، اس حملے کی سازش رچنے والا تہور رانا اس وقت قانون کی گرفت سے باہر تھا، جسے اب امریکہ سے ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ فڑنویس نے کہا کہ قانون کے مطابق قصاب کو پھانسی دینا ہماری ذمہ داری تھی، لیکن جو شخص سازش کا مرکزی کردار تھا وہ ہماری گرفت میں نہیں آیا تھا۔ اب جبکہ تہور رانا این آئی اے کی تحویل میں ہے ، اس پر تحقیقات اور قانونی کارروائی کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔انہوں نے کہا کہ این آئی اے اس معاملے میں تحقیقات اور دیگر قانونی پہلوؤں پر غور کرے گی۔ ہمیں جس بھی معلومات کی ضرورت ہوگی، ہم این آئی اے سے حاصل کریں گے ، اور اگر این آئی اے کو کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو ممبئی پولیس اس میں مکمل تعاون کرے گی۔”فڑنویس نے اس پیش رفت کو ممبئی کے شہریوں کیلئے انصاف کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

رانا کو
پیش کیا گیا۔
سینئر وکیل دیان کرشنن اور اسپیشل پبلک پراسکیوٹر نریندر مان نے این آئی اے کی طرف سے اس معاملے میں بحث کی۔ ایڈوکیٹ پیوش سچدیو دہلی لیگل سروس کی جانب سے تہور رانا کی قانونی مدد کیلئے پیش ہوئے ۔خصوصی این آئی اے جج چندر جیت سنگھ نے بند کمرے میں کیس کی سماعت کی اور دیر رات 2 بجے اپنا فیصلہ سنایا۔این آئی اے نے تہور رانا کی تحویل سے متعلق اپنے دلائل پیش کیے ، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنے فیصلے میں تہور رانا کو 18 روزہ ریمانڈ پر این آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اسے مزید پوچھ گچھ کیلئے این آئی اے ہیڈکوارٹر لے جایا گیا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے اطراف سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔واضح ر ہے کہ ممبئی حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ تہور رانا کو ہند-امریکہ حوالگی کے معاہدے کے تحت کارروائی کی وجہ سے امریکہ میں عدالتی حراست میں رکھا گیا تھا۔ تہور رانا کی حوالگی روکنے کے تمام قانونی راستے ختم ہونے کے بعد، بالآخر اس کی حوالگی کا عمل مکمل ہو گیا، جب اسے خصوصی طیارے کے ذریعہ امریکہ سے ہندوستان لایا گیا۔این آئی اے نے اسکائی مارشلز، یو ایس ڈی او جے کے ساتھ تال میل کے ذریعہ حوالگی کے پورے عمل کے دوران دیگر ہندوستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں، این ایس جی ، وزارت امور خارجہ اور وزارت داخلہ کے دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کیا۔