کوئی خیال کوئی خواب بُن کے آؤ نا
میں خود سے روٹھ گئی ہوں مجھے مناؤ نا
ملک میں حکومت کی جانب سے مخالفین اور سماجی کارکنوں اور جہد کاروں کے علاوہ طلبا و وکلا کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے گنوایا نہیں جا رہا ہے ۔ اسی طرح صحافیوں کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے اور کئی صحافیوں کو بھی جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ کئی طلبا قائدین ایک طویل عرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کی ضمانتیں نہیں ہو رہی ہیں۔ کئی جہد کاروں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں مقدمات میں ماخوذ کیا گیا ہے ۔ حکومت جہاں ان کے خلاف سنگین مقدمات دائر کرتی ہے اور سخت ترین دفعات عائد کرتی ہے وہیں ان جہدکاروں کا دعوی ہے کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہیں جھوٹے مقدمات میںپھانسا گیا ہے ۔ انہیں نشانہ بنانے کیلئے حکومت سازشیں کر رہی ہے ۔ اکثر و بیشتر معاملات میں حکومت کو عدالتوں کی پھٹکار اور سرزنش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ عدالتیں اس طرح کے مقدمات پر سخت ریمارکس کرتی جا رہی ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کیلئے تو یہ تک کہا گیا ہے کہ حکومتیں آتی اور جاتی رہتی ہیں لیکن ایجنسیوں کو قانون اور دستور کے مطابق کارروائی کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومتوں کے اشارے پر کام کرنے کی بجائے اپنے فرائض کو غیر جانبدارانہ انداز میں ادا کیا جانا چاہئے ۔ تازہ ترین معاملہ میں سپریم کورٹ کی ایک سہ رکنی بنچ نے سماجی جہد کار تیستا سیتلواد کو عبوری ضمانت منظور کی ہے اور خود گجرات ہائیکورٹ کے اقدامات پر بھی سوال کیا ہے ۔ تیستا سیتلواد کو دو ماہ پہلے حراست میں لیا گیا تھا ۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے گجرات فسادات کے بعد مقدمات درج کروانے کیلئے فرضی اور جعلی دستاویزات تیار کئے تھے ۔ تاہم پولیس اس مقدمہ میں کوئی ثبوت نہیںپیش کرسکی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ سیتلواد نے کس دستاویز کو فرضی تیار کروایا تھا ۔ سپریم کورٹ نے گذشتہ کل اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے گجرات ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست پر سماعت کو چھ ہفتوں کیلئے ملتوی کرنے پر ناراضگی جتائی تھی اور کہا تھا کہ ایک خاتون کے معاملے میں اتنی طویل مدت تک سماعت کو ملتوی نہیں کیا جانا چاہئے ۔ پولیس کو ان سے پوچھ تاچھ کیلئے کافی وقت مل چکا ہے ۔
سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو اتنے طویل وقت تک حراست میں رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے ۔ ان کے خلاف مقدمات میں کوئی دفعہ ایسا نہیں ہے جس کے تحت انہیں ضمانت سے محروم رکھا جاسکے ۔ حالانکہ عدالت عظمی نے تیستا سیتلواد کی درخواست ضمانت پر یہ رائے ظاہر کی ہے تاہم یہ حقیقت سارا ملک جانتا ہے کہ کس طرح سے حکومت کے خلاف رائے رکھنے والے عناصر کو نشانہ بنایا جا رہاہے۔ حکومت کی مخالفت کرنے والوں اور اس کی پالیسیوں اور فیصلوں سے اتفاق نہ کرنے والوںکو نشانہ بناتے ہوئے انہیں جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے ۔ سیاسی قائدین اگر ہوں تو انہیں ای ڈی اور سی بی آئی کی تحقیقات کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جہد کاروں ‘ وکلاء ‘ طلبا قائدین اور صحافیوں کو بھی سخت گیر دفعات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھیجا جا رہا ہے ۔ اس طرح کے معاملات میں ایک سے زائد مرتبہ حکومت اور تحقیقاتی ایجنسیوں کو عدالت کی سرزنش اور پھٹکار کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے باوجود نہ حکومت کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی تحقیقاتی اور نفاذ قانون کی ایجنسیوں نے اپنے کام کاج میں کوئی بہتری لائی ہے ۔ کسی طرح کا سدھار کرنے کی بجائے اسی نہج پر مقدمات درج کرنے اور جہد کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے ۔ اس سے حکومت کی ہٹ دھرمی اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی غیر ذمہ داری کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ ایجنسیاں اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی بجائے سیاسی اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔
تیستا سیتلواد بھی وہ جہد کار ہیں جنہوں نے گجرات کے بدترین مسلم کش فسادات کے بعد خاطیوں اور سازشیوں کے خلاف مقدمات درج کروانے کا بیڑہ اٹھایا تھا ۔ انہوں نے فسادات کے مظلومین کی ہر ممکنہ مدد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ انہوں نے حکومت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی اور حکومت کو بھی قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی جدوجہد کا حصہ رہی تھیں۔ اسی لئے انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ انہیں جیل بھیج کر حکومت انتقامی جذبہ کی تکمیل کرنا چاہتی تھی تاہم ملک کی اعلی ترین عدالت نے انہیںعبوری ضمانت دیتے ہوئے راحت فراہم کی ہے اور یہ واضح ہوگیا ہے کہ آج بھی ملک میں قانون اور عدلیہ انصاف کیلئے موجود ہے اور حکومت کی سازشیں کامیاب نہیںہوسکتیں۔
