تیسرا محاذ یا اصل محاذ

   


جنتادل یو کے صدر و چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے کہا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل کوئی تیسرا محاذ تشکیل نہیں دیا جائیگا بلکہ جو کوئی محاذ بنے گا وہی اصل محاذ ہوگا جو بی جے پی کے خلاف مقابلہ کریگا ۔ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اس محاذ کا حصہ بنتی ہیں تو ایک مشترکہ حکمت عملی کے ذریعہ بی جے پی کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ ملک کے دوسرے قائدین کا بھی اصرار رہا ہے کہ بی جے پی سے مقابلہ کرنے کیلئے اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کی ضرورت ہے ۔ جب تک اپوزیشن جماعتوں میں اتحاد نہیں ہوگا اور اپوزیشن کے ووٹوں کی تقسیم کو روکنے کا کوئی موثر انتظام نہیں کیا جاتا اس وقت تک بی جے پی کو انتخابی سیاست میں شکست سے دو چار کرنا آسان نہیں ہوسکتا ۔ بی جے پی کے پاس ایک بڑی انتخابی مشنری ہے ۔ سوشیل میڈیا کی ایک فوج ہے جو اس کے پروپگنڈہ اور تشہیر میں ہمہ تن گوش رہتی ہے ۔ قومی میڈیا بھی بی جے پی کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے میں ہی تگ و دو کرتا رہتا ہے ۔ صنعتکار حلقے الگ سے بی جے پی کی تائید کرتے ہیں۔ بی جے پی کے پاس آر ایس ایس کی تائید ہے ۔ اس کے اپنی تنظیمیں بی جے پی کیلئے الگ سے کام کرتی ہیں۔ تشہیر کے علاوہ پیسے کی طاقت میں بھی بی جے پی دوسری جماعتوں سے کافی آگے آچکی ہے ۔ دھن دولت کی اس کے پاس کوئی کمی نہیں ہے ۔ سرکاری مشنری کے استعمال کے بھی اس پر الزامات لگتے رہتے ہیں۔ ان سب کو دیکھتے ہوئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب تک اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد نہیں ہوتا اس وقت تک ان کیلئے کامیابی حاصل کرنا یا بی جے پی کو شکست سے دو چار کرنا آسان نہیںہوسکتا ۔ کچھ ریاستوں میں یا مقامات پر بی جے پی کو کسی ایک جماعت نے شکست ضرور دی ہے ۔ ہماچل پردیش میں اسے کانگریس کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اسی طرح دہلی میونسپل کارپوریشن میں عام آدمی پارٹی نے اسے اقتدار سے اکھاڑ پھینک دیا ہے لیکن ملک گیر سطح پرا س کے مقابلہ کیلئے ضروری ہے کہ بی جے پی کے آلہ کار عناصر کو ناکام کیا جائے اور اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہوئے مقابلہ کیا جائے ۔
جس طرح نتیش کمار نے تیسرے محاذ کیلئے اپوزیشن کی صفوںمیں اتحاد کی ضرورت کو ظاہر کیا ہے اسی طرح این سی پی سربراہ شرد پوار کا بھی کہنا ہے کہ اپوزیشن کو مل کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ترنمول کانگریس کی ممتابنرجی بھی بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔ کمیونسٹ جماعتوں کا بھی دعوی ہے کہ بی جے پی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کو آپس میں اتحاد کرنے کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ بھی بی جے پی کے خلاف سرگرم ہونے کا اعلان کر رہے ہیں۔ کانگریس ملک گیر سطح پر اب بھی گئی گذری حالت میں اپنا کیڈر رکھتی ہے ۔ اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے ۔ علاقائی اور مخالف بی جے پی جماعتوں کو اپنے ذاتی مفادات یا مخالفتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک نکتہ پر متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ بی جے پی کو 2024 کے انتخابات میں کامیابی سے روکا جاسکے ۔ بی جے پی آئندہ انتخابات میں کامیابی کیلئے بھی گجرات کی طرح پوری طاقت جھونکنے سے گریز نہیںکرے گی ۔ اس کے پاس انتخابات میں کامیابی کیلئے درکار تمام وسائل بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد کے فقدان کا بی جے پی پوری طرح سے فائدہ اٹھاتی ہے اور حالات کا استحصال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرتی ہے ۔ اسی ایک نکتہ پر اگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہوتی ہیں اور بی جے پی کو شکست دینے کا تہئیہ کرتے ہوئے آگے آتی ہیں تو پھر ان کے انتخابی امکانات میں بہتری کی امید ضرور کی جاسکتی ہے ۔
اپوزیشن کے اتحاد کو جو نام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اس میں ہی اتفاق دکھائی نہیں دیتا ۔ کوئی بی جے پی مخالف دوسرا محاذ قرار دیتا ہے تو کوئی کانگریس اور بی جے پی دونوں کے خلاف تیسرے محاذ کی بات کرتا ہے ۔ کوئی تیسرے محاذ کو بھی مسترد کرتے ہوئے اصل محاذ کا دعوی کرتا ہے ۔ ایسے میں اتفاق یا اتحاد کی امید ہی فضول ہوجاتی ہے ۔ سبھی جماعتوں کے قائدین کو ایک جٹ ہونے کی ضرورت ہے ۔ سب کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے اپنا ذہن بنانا چاہئے ۔ سبھی کو ایک مشترکہ پروگرام تیار کرتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جامع حکمت عملی کے تحت سبھی جماعتوں کو اپنی اپنی ریاستوں کے اعتبار سے ذمہ داری دی جاسکتی ہے ۔ ہر کسی کو دوسرے کا احترام کرتے ہوئے آگے آنا چاہئے ۔