ہے اسی کنج قفس میں مری دنیا آباد
کیوں سنائے مجھے رودادِ گلستاں کوئی
تیسری لہر کے اندیشے اور مرکز کے انتباہ
ملک کے عوام ابھی کورونا وائرس کی دوسری لہر سے پوری طرح سے ابھرے بھی نہیں ہیں کہ تیسری لہر کے اندیشے پوری شدت سے ظاہر کئے جانے لگے ہیں۔ حالانکہ لوگ دوسری لہر کے اثرات سے ابھی خود کو باہر نکالنے میں مصروف ہیں اور بتدریج صورتحال کو معمول پر لانے کی کوششیں دکھائی دے رہی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ تیسری لہر کے اندیشوں سے یہ سرگرمیاں متاثر ہونگی ۔ تیسری لہر کے تعلق سے حالانکہ عوام میں کوئی تجسس نہیں پایا جاتا لیکن ماہرین اور سائنسدانوں کی جانب سے مسلسل تیسری لہر کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ اب تک کچھ ڈاکٹرس کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ تیسری لہر کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں تیسری لہر کے اندیشوں کو دیکھتے ہوئے رات کا کرفیو دوبارہ نافذ کردیا گیا ہے ۔ ریاست میں رات دس بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو لاگو رہے گا ۔ ماہرین اور سائنسدانوں و ڈاکٹرس کی جانب سے تیسری لہر کے اندیشوں کے باوجود عوام میں اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے اور اسی وجہ سے مرکزی حکومت کو تیسری مرتبہ ایک انتباہ جاری کرنا پڑا ہے ۔ مرکز کا کہنا ہے کہ تیسری لہر کے اندیشوں سے غفلت برتی جا رہی ہے ۔ اسے بھی معمول کی موسمی پیش قیاسی کی طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ ایسا نہیں کیا جانا چاہئے ۔ مرکز کے بموجب تیسری لہر کے اندیشوں کو سنجیدگی سے لینے کی اور اس سے بچنے کیلئے مکمل احتیاط کرنے کی ضرورت ہے ۔ مرکز کا کہنا ہے کہ لا پرواہی کی فی الحال کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس کے نتائج سنگین بھی ہوسکتے ہیں۔ مرکز نے تیسرا انتباہ اس وقت جاری کیا ہے جبکہ ملک کے شمالی علاقوں میں تفریحی مقامات پر عوام کا ہجوم دیکھا جانے لگا تھا ۔ مرکز کا کہنا ہے کہ تفریحی اور پہاڑی مقامات پر ہجوم جمع کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ یہ انتباہ ایسا ہے جس پر عوام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ماہرین اور ڈاکٹرس کی رائے کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ پہلی لہر کے بعد کی غفلت اور لاپرواہی کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ پہلی لہر کے بعد کی غفلت کی ہندوستانی عوام نے انتہائی بھاری قیمت چکائی ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ وائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور ملک کے بعض مقامات پر اس کی شدت میں معمولی سا اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صورتحال کو قبل از وقت بھانپتے ہوئے آندھرا پردیش میں رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ جہاں تک عوام کی بات ہے تو یہ حقیقت ہے کہ عوام نے احتیاط کو بالکل ہی بالائے طاق رکھ دیا ہے ۔ جس طرح کورونا وباء کے عروج کے ایام میں احتیاط برتی جا رہی تھی اور تمام اصولوں کا خیال رکھا جا رہا تھا اب ویسی صورتحال نہیں ہے بلکہ حالات کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے انتہاء درج تک تباہی مچانے والی دوسری لہر کو بھی فراموش کردیا گیا ہے ۔ بازاروں اور ہر جگہ ہجوم میں اضافہ ہوگیا ہے ۔سماجی فاصلے کے اصولوں کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ ماسک کا استعمال تو بالکل بھی ختم ہوگیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ سینیٹائزرس کو بھی بھول چکے ہیں۔ لوگوں سے ملنے جلنے اور تقاریب و اجتماعات میں شرکت سابق کی طرح بحال ہوچکی ہے ۔ احتیاط کو یکسر فراموش کردیا گیا ہے ۔ ایسے میں اگر ماہرین اور سائنسدانوں کی پیش قیاسی کی طرح تیسری لہر نے شدت اختیار کرلی تو پھر صورتحال ہر ایک کیلئے مشکل ہوجائے گی ۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ دوسری لہر کے دوران ہم میں سے بے شمار نے اپنوں کو کھویا ہے ۔ کئی خاندان ایسے بھی ہیں جہاں ایک سے زائد موت ہوئی ہے ۔ کئی خاندان آج بھی دوسری لہر کے نقصانات کے زیر اثر ہیں۔ لاپرواہی کسی کی جانب سے بھی ہو اس کی قیمت چکانی پڑسکتی ہے ۔
حکومت کی جانب سے ماہرین اور ڈاکٹرس کی رائے کو دیکھتے ہوئے بار بار انتباہ دیا جا رہا ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ہر ایک فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت اور تحفظ کو ترجیح دے ۔ سماجی اور دوسری مصروفیات کے نام پر اپنی اور اہل خانہ کی سلامتی کو خطرہ میں نہیں ڈالا جاسکتا ۔ جس احتیاط کا دوسری لہر کے دوران مظاہرہ کیا گیا تھا اس کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ ماسک کا لازمی استعمال ہونا چاہئے ۔ سماجی فاصلے اور دوریوں پر عمل کیا جانا چاہئے اور دوسری احتیاط کو بھی اختیار کرنا چاہئے ۔ کسی بھی خاندان میں کوئی ناگہانی واقعہ پیش نہ آئے اس پر ہر ایک کی توجہ ہونی چاہئے ۔
