ملک بھر کی مختلف ریاستوں میں تعلیمی اداروں کی کشادگی کا بتدریج آغاز ہو رہا ہے ۔ کئی ریاستوں میں اسکولس اور کالجس کو کھول دیا گیا ہے ۔ فزیکل کلاسیس کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ ابھی ان تعلیمی اداروں میں طلبا کی حاضری توقعات کے مطابق نہیں ہے لیکن بتدریج کلاسیس کا آغاز کیا جا رہا ہے ۔ جہاں تک طلبا یا اولیائے طلبا کا سوال ہے تو وہ اس معاملے میں پس و پیش کا شکار ہیں۔ مختلف گوشوں سے مختلف خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ نت نئے اندیشے پیدا ہو رہے ہیں اور والدین یا اولیائے طلبا یہ فیصلہ نہیںکر پا رہے ہیں کہ بچوں کو اسکولس اور کالجس کو بھیجا جائے یا نہیں۔ کچھ والدین اگر اپنے بچوں کو اسکولس بھیج بھی رہے ہیں تو وہ کچھ اندیشوں کا شکار ہیں لیکن تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وہ بچوں کو اسکول بھیج رہے ہیں۔ ایسے میں کچھ ٹی وی چینلس اور کچھ دوسرے سوشیل میڈیا اداروں کی جانب سے ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ یہ تک کہا جا رہا ہے کہ کچھ ریاستوں میں اور بعض شہروں میں تیسری لہر نے دستک دینی شروع کردی ہے ۔ خاص طور پر اسکولس اور کالجس کو جانے والے بچے اب اس لہر سے متاثر ہونے لگے ہیں اور اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ انہیں بھی وائرس اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ اس صورتحال میں تعلیم کا مسلسل نقصان ہوتا جا رہا ہے ۔ کئی تعلیمی ادارے انتہائی مشکل حالات کا شکار ہیںاور کئی دوسرے تو بند بھی ہوگئے ہیں۔ یہ سارا کچھ نہ صرف تعلیمی اداروں کا نقصان ہے بلکہ بچوں کی تعلیم کا بھی نقصان ہے اور ان کا مستقبل غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے ۔ الگ الگ گوشوں سے الگ الگ اطلاعات نے بھی والدین اور اولیائے طلبا میں الجھن پیدا کردی ہے ۔ وہ کسی ایک فیصلے پر مطمئن نہیں ہو پا رہے ہیں۔ وہ پس و پیش کا شکار ہیں۔ جہاں اپنے بچوں کی صحت اور ان کی زندگیوں کی فکر والدین کو لاحق ہے تو وہیں ان کی تعلیم اور مستقبل کی اہمیت سے بھی یہ لوگ انہیں نہیں کرسکتے ۔ ایسے میں ان کی الجھن مزید بڑھتی جا رہی ہے ۔ بطور خاص سوشیل میڈیا پر طرح طرح کی اطلاعات گشت کر رہی ہیںا ور ان میں اکثریت غیر مصدقہ ہے ۔
غیر مصدقہ ان کی وجہ سے والدین کی الجھن میںاضافہ تو ہو ہی رہا ہے ۔ تاہم جہاں تک حکومت کا سوال ہے اس سارے معاملے میں انتہائی لاپرواہی شعبہ تعلیم ہی سے برتی گئی ہے ۔ چل چلاو والا یا اڈھاک رویہ تعلیم کے تعلق سے اختیار کیا گیا ہے ۔ کوئی جامع پالیسی یا تدابیر اختیار نہیں کی گئیں تاکہ تعلیم کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے ۔ صرف آن لائین تعلیم کا اعلان کردینے سے تعلیم کو یقینی بنانا ممکن نہیں ہوپاتا ۔ حکومت کو اس معاملے میں کچھ اختراعی اقدامات کرنے کی ضرورت تھی جو اس نے نہیں کی ۔ نہ قومی سطح پر مرکزی حکومت نے کی ہے اور نہ ہی ریاستوں میں ریاستی حکومتوں نے کی ہیں۔ سبھی نے صرف معیشت کو بحال کرنے پر توجہ دی ہے لیکن تعلیم پر جتنی توجہ کی ضرورت تھی اتنی نہیں دی گئی ہے ۔ اس شعبہ کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ والدین الجھن کا شکار ہیں اور طلبا اپنے مستقبل اور صحت دونوں کے تعلق سے فکرمند ہیں۔ حکومت کو اس سلسلہ میں ماہرین طب اور سائنسدانوں سے مشاورت کرتے ہوئے تجاویز حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم کے شعبہ کیلئے ایک منفرد اور اختراعی حکمت عملی تیار کی جاسکے جس کے ذریعہ نہ طلبا کی صحت پر کوئی سمجھوتہ ہو اور نہ ہی ان کی تعلیم متاثر ہوسکے ۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے وجود کو بھی برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ان کو بھی مشکل حالات سے بچانے کیلئے حکومت کو ایک جامع اور منظم منصوبہ تیار کرکے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
جہاں تک تیسری لہر کے اندیشے ہیں وہ بھی عوام کے ذہنوں میں شکوک اور خوف پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کی رائے حاصل کرتے ہوئے اس تعلق سے بھی عوام میں شعور بیدار کرنے کیلئے حکومتوں کو سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ حالات کے رحم و کرم پر عوام کو چھوڑا نہیں جاسکتا اور نہ ہی طلبا کی صحت اور ان کی زندگیوں کو داو پر لگایا جاسکتا ہے ۔ ان کی تعلیم اور مستقبل کو بھی یقینی بنانا ہوگا ۔ یہ مسئلہ چل چلاو والے رویہ سے حل نہیں ہوسکتا ۔ اس کیلئے حکومت کو مکمل غور و فکر کے بعد جامع حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ حکومت کو بچوںکی صحت ‘ زندگی اور ان کی تعلیم کا پورا پورا اہتمام کیا جائے ۔ ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے وجود اور ان کی بقاء کو بھی یقینی بنانے کیلئے حکومت کو آگے آنے کی ضرورت
