ہندوؤں کیلئے اچھا مہورت، فنکشن ہالس کی بکنگ فُل، کیٹرنگ شرح میں اضافہ
حیدرآباد۔4۔فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں ماہ فروری کے دوران زائد از 20 ہزار شادیاں ہونے جا رہی ہیں۔ ہندو طبقہ کے لئے جاریہ ماہ کے دوران اچھے مہورت کے سبب منعقد ہونے والی ان شادی کی تقاریب کے سبب نہ صرف شادی خانہ ‘ بینکیویٹ ہالس بلکہ ہوٹلس بھی بک ہیں اور شادی سے متعلق کام کرنے والے کیٹررس ‘ فوٹو اور ویڈیو گرافرس کے علاوہ شہر میں سجاوٹ کا کام کرنے والے بھی انتہائی مصروف ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے اضلاع میں منعقد ہونے والی شادیوں کے سلسلہ میں اس صنعت سے جڑے ہوئے افراد کا کہناہے کہ ماہ فروری جو کہ میگھ کا مہینہ ہے اور اسے مبارک تصور کیا جاتا ہے اسی لئے بعض شادی خانوں میں ایک دن میں 2تا3 شادیوں کی بکنگ بھی کی گئی ہے ۔ ماہ فروری میں 4 تاریخ سے شروع ہونے والے ان اچھے ایام کے دوران شہر حیدرآباد کے بیشتر شادی خانے بک ہیں اور ہندو شادیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جارہاہے ۔ جاریہ ماہ ایک دن کے وقفہ سے ہر دن اچھا اور مبارک ہونے کے سبب ان ایام کے دوران بیشتر شادی خانوں میں دن میں دو اور رات دیر گئے ایک شادی بھی ہونے لگی ہے۔ کیٹرنگ خدمات انجام دینے والوں کی جانب سے جاریہ ماہ کے فنکشن کے لئے 40تا 60 فیصد قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریکارڈ کئے جانے والے اضافہ کے سبب وہ قیمتوں میں اضافہ پر مجبور ہیں۔ ماہ فروری کے دوران 20 ہزار شادیاں مطلب ریاست تلنگانہ میں جاریہ ماہ کے دوران یومیہ 800 شادی کی تقاریب منعقد ہونے جا رہی ہیں اور کیٹرنگ کرنے والوں کی جانب سے 350 تا 1500 روپئے فی کس کی قیمتوں کے اشیائے خورد و نوش تیار کئے جارہے ہیں۔شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے شادی خانوں کے کرایہ میں بھی جاریہ ماہ کے دوران اضافہ کیا گیا ہے اور مہورت پر شادی کرنے کے خواہشمندوں سے زبردست کرایہ وصول کیا جا رہاہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندو شادی تقاریب میں بیانڈ باجہ اور بارات کے کلچر کے سبب بیانڈ باجہ کی ڈیمانڈ میں بھی زبردست اضافہ دیکھا جا رہاہے ۔ ہندو پنڈتوں کے مطابق جاریہ ماہ کے دوران 11 ایام ان کے لئے مبارک ہیں اور بیشتر ہندو طبقات کی جانب سے ان ایام کو شادی کے لئے اچھا مہورت تصور کیا جاتا ہے اسی لئے ان تواریخ میں زیادہ سے زیادہ شادیاں منعقد ہونے جا رہی ہیں اور یہ سلسلہ 29 فروری تک جاری رہے گا۔3