جامعات کے طلباء اور طالبات پر پولیس ظلم کے خلاف

   

انجمن ترقی پسند مصنفین کا اظہار مذمت، آج ٹینک بنڈ پر احتجاج
حیدرآباد /18 ڈسمبر ( پریس نوٹ ) کل ہند انجمن ترقی پسند مصنفین و ریاست تلنگانہ نے اپنے ایک پریس نوٹ میں کہا ہے کہ مودی حکومت 2014 ء میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد سے آج تک سلسلہ وار ظلم و تشدد اور غیر جمہوری اور آمرانہ جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے ۔ چنانچہ معقول پسند دانشوروں کا قتل ، جانوروں کے نام پر ہجومی تشدد ، مسلمانوں دلتوں اور خواتین کے ساتھ زیادتیاں اور اب مذہبی و نسلی امتیاز پر مبنی شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کے خلاف جامعات کے طلباء و طالبات کے یونیورسٹی کیمپس میں پرامن احتجاج کو پولیس کے ذریعہ کچلنے کے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے ۔ شروع ہی سے ہمارے بنیادی دستوری اداروں کے اختیارات و فرائض کی انجام دہی میں مداخلت کرتی آرہی ہے ۔ عدلیہ ، پریس اور ریزرو بینک آف انڈیا کے فرائض کی مداخلت سے پورے ہندوستان کی آزادی کو سبوتاج کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی غلط معاشی پالیسیو ںکی وجہ سے ملک او وقت شدید معاشی انحطاط سے گذر رہا ہے ۔ ملک کے تمام ماہر معاشیات اور یونیسکو کے ماہرین نے ہندوستان کے اس معاشی انحطاط پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت ہند کو خبردار کیا ہے لیکن ملک کی معیشت کو سدھارنے کے بجائے وہ فرقہ پرست اور جانبدارانہ شہریت ترمیمی قانون نافذ کرکے پورے ملک میں بدامنی اور انتشار پیدا کرنے میں مصروف ہے ۔ انجمن ترقی پسند تحریک ان حالات میں ان کے سرپرست اور عالمگیر شہرت یافتہ مزاح نگار جناب مجتبی حسین نے حکومت کا دیا ہوا باوقار پدم شری ایوارڈ احتجاجاً واپس کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ ایک قابل تقلید اقدام ہے ۔ انجمن اور ہندوستان کے دوسرے ادبی اور سیاسی حلقوں میں اس کا گرمجوشی سے استقبال کیا ہے ۔ اننجمن امید کرتی ہے کہ ایسے تمام دانشور ، ادباء شعراء جنہیں حکومت کی طرف سے ایوارڈس سے نوازا گیا ہے وہ بھی احتجاجاً اپنے ایوارڈس اور اعزازات واپس کردیں گے ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین ان حالات میں کل 19 ڈسمبر کو 10.30 بجے صبح ٹینک بنڈ، مخدوم اسٹیچو کے پاس ایک احتجاج کا پروگرام بنایا ہے۔ تمام ترقی پسند مصنفین ، شعراء اور عوام الناس سے اس احتجاجی ریالی میں شرکت کی درخواست کی جاتی ہے ۔