جامعہ ملیہ کے طلبہ سے یگانگت کیلئے عثمانیہ یونیورسٹی اور مانو میں احتجاج

,

   

Ferty9 Clinic

شہریت ترمیمی قانون کیخلاف پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کی بہیمانہ کارروائیوں کی مذمت ، شہر میں دیگر تنظیموں کے مظاہرے، این آر سی کی مخالفت

حیدرآباد 17 ڈسمبر (سیاست نیوز ۔ پی ٹی آئی) علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ سے یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن (مانو ٹی اے) سے وابستہ اساتذہ کے علاوہ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ اور دوسروں نے یونیورسٹی کیمپس میں پرامن مارچ منظم کیا۔ مانو ٹیچرس اسوسی ایشن اور عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جمہوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے کیمپسوں میں کی گئی پولیس کارروائیوں کی سخت مذمت کی۔ مانو کیمپس میں منگل کو نکالے گئے ٹیچرس کے پرامن مارچ میں طلبہ اور غیر تدریسی عملے کے ارکان بھی شامل ہوگئے۔ مانو ٹیچرس اسوسی ایشن کے ایک نمائندہ نے پی ٹی آئی سے کہاکہ ’طلبہ برادری سے اظہار یگانگت کے لئے یونیورسٹی کیمپس میں پرامن مارچ منظم کیا گیا‘۔ دہلی کی جامعہ ملیہ میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد اُردو نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ نے اتوار کی شب احتجاج شروع کیا تھا۔ ٹیچرس اسوسی ایشن کے مارچ میں شامل احتجاجیوں نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کی کارروائیوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ مانو اسٹوڈنٹس یونین نے کہاکہ شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے خلاف اس یونیورسٹی کیمپس میں جمہوری انداز میں احتجاج جاری رہے گا۔ مانو ٹیچرس اسوسی ایشن نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مانو اور دیگر یونیورسٹی کے طلبہ سے یگانگت کا اظہار کیا ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی، آرٹس کالج کے طلبہ نے بھی احتجاج کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ سے یگانگت کا اظہار کیا۔

اس دوران شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مختلف تنظیموں نے پیر کی رات دیر گئے تک شہر کے کئی مقامات پر احتجاج کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کی مبینہ بہیمانہ کارروائیوں کی مذمت کی۔ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جس پر ’حیدرآباد شہریت ترمیمی قانون کو مسترد کرتا ہے‘ کے نعرے درج تھے۔ علاوہ ازیں چند دیگر پلے کارڈس پر جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کررہے تھے لیکن اتوار کی شام پولیس کیمپس میں داخل ہوگئی تھی جس کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہوگئی تھی۔ ترمیمی قانون کے خلاف جامعہ کے طلبہ کے احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں بشمول طلبہ، ملازمین پولیس اور آتش فرو عملے کے ارکان تقریباً 40 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے سبب جامعہ ملیہ اسلامیہ کو 5 جنوری تک تعطیلات دیدی گئیں اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں سخت چوکسی اختیار کرلی گئی تھی۔ شہریت قانون کے خلاف جاری احتجاج کے دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اور ندوۃ العلماء میں پولیس کے ظلم و بربریت پر ملک بھر کی طلبہ برادری میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ آج طلبہ کے احتجاج میں مختلف اسوسی ایشنوں کی شمولیت اور احتجاج کو تائید سے طلبہ کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ ’’تعمیر وطن میں ہم بھی ہیں برابر کے شریک‘‘ ، ئئدستور بچاؤ‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے طلبہ نے پولیس اور مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ اُردو، انگریزی اور ہندی زبان میں بیانرس اور پرچم تھام کر بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ سینکڑوں طلبہ نے قومی پرچم کو تھامے ہوئے احتجاج جاری رکھا۔ اس احتجاج میں پروفیسر پی ایچ محمد صدر ٹیچرس اسوسی ایشن، پروفیسر محمد شاہد رضا نائب صدر اور مجاہد علی صدر آفیسرس اسوسی ایشن موجود تھے۔