جامعہ نظامیہ موقوفہ اراضی کا ہراج محمد اظہر الدین اور محمد علی شبیر کا کچھ بھی کہنے سے گریز

   

تفصیلی جائزہ کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو واقف کروانے وزیر اقلیتی بہبود اور حکومت کے مشیر کا تیقن

حیدرآباد۔9۔ستمبر۔(سیاست نیوز) جامعہ نظامیہ کی موقوفہ اراضی کے ہراج کے ذریعہ فروخت کے معاملہ میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین اور مشیر حکومت برائے اقلیتی بہبود جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ شہر میں گذشتہ یوم منعقد ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کے ایک پروگرام کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے جب ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین سے ’جامعہ نظامیہ‘ کی اراضی کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کسی بھی طرح کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ ’جامعہ نظامیہ ‘ کی موقوفہ اراضی کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس کے متعلق کوئی جواب دیں گے۔ انہو ںنے بتایا کہ وہ مذکورہ اراضی کے معاملہ میں جلد ہی Prepare ہونے کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو ’جامعہ نظامیہ ‘ کی اراضی سے متعلق تفصیلات سے واقف کروائیں گے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے اس رویہ اور جواب دیئے بغیر پروگرام سے روانہ ہونے پر مختلف گوشوں سے انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے اور استفسار کیا جا رہاہے کہ 4ماہ گذرنے کے باوجود ریاستی حکومت ’جامعہ نظامیہ ‘ معاملہ پر جواب دینے کے لئے Prepareنہیں ہے۔ 23 جون کو روزنامہ سیاست نے سب سے پہلے جامعہ نظامیہ کی اراضی پر ہونے والے قبضہ جات اور ان کی فروخت کے سلسلہ میں انکشاف کیا تھا۔محکمہ اقلیتی بہبود کے پروگرام سے واپسی کے دوران وزیر اقلیتی بہبود سے کئے گئے سوالات کے جواب نہ ملنے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے مشیر حکومت برائے اقلیتی امور محمد علی شبیر کو روک کر ان سے دریافت کیا کہ ’جامعہ نظامیہ‘ کی موقوفہ اراضی کے ہراج کے سلسلہ میں ان کا کیا موقف ہے !محمد علی شبیر بھی اس مسئلہ پر کسی بھی طرح کا جواب دیئے بغیر نامپلی میں منعقدہ پروگرام سے روانہ ہوگئے اور جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے ان سے اصرار کیا کہ وہ بہ حیثیت مشیر برائے اقلیتی امور اپنی رائے پیش کریں تو سابق ریاستی وزیر و مشیر برائے حکومت نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مشورہ دیا کہ وہ پروگرام میں موجود ریاستی وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین اور صدرنشین وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی سے ’جامعہ نظامیہ ‘ کی جائیداد کے متعلق دریافت کریں اور اگر وہ جواب نہیں دے پاتے ہیں تو ایسی صورت میں ان سے سوال کیا جائے وہ جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔ کانگریس اقلیتی قائدین ’جامعہ نظامیہ ‘ سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے بجائے فرار ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں جبکہ ریاستی حکومت کی نگرانی میں جامعہ نظامیہ کی انتہائی قیمتی اراضی کے ہراج سے ریاستی حکومت کو 2833 کروڑ روپئے حاصل ہوچکے ہیں۔3