چیف منسٹر ریونت ریڈی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، سروے کے اعداد و شمار سے فلاحی اسکیمات میں حصہ داری طئے کی جائیگی، تلنگانہ ملک کیلئے رول ماڈل
حیدرآباد۔/29 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ریاست میں طبقاتی سروے کے کامیابی سے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ جامع طبقاتی سروے حکومت کی اہم کامیابی ہے۔ چیف منسٹر نے طبقاتی سروے کے مسئلہ پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں ذات پات پر مبنی سروے نے سارے ملک کی توجہ مرکوز کرلی ہے اور ملک کیلئے ایک ماڈل رول تلنگانہ نے ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے کامیاب انعقاد سے قومی سطح پر ستائش حاصل ہورہی ہے۔ انٹیگریٹیڈ کمانڈ کنٹرول سنٹر میں منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، ریاستی وزراء دامودر راج نرسمہا، اتم کمار ریڈی، ڈی انوسیا سیتکا ، پی سرینواس ریڈی، حکومت کے مشیران ڈاکٹر کے کیشو راؤ، کے جانا ریڈی، چیف سکریٹری شانتی کماری اور دیگر عہدیدار شریک تھے۔ چیف منسٹر نے سروے کی انجام دہی کیلئے عہدیداروں اور ملازمین کو مبارکباد پیش کی جنہوں نے گھر گھر پہنچ کر تفصیلات حاصل کیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ طبقاتی سروے کا استعمال سوشیل امپاورمنٹ اور بی سی، ایس سی، ایس ٹی، اقلیت اور کمزور طبقات کی جامع ترقی کیلئے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے کامیاب انعقاد سے حکومت کے اس عہد کا اظہار ہوتا ہے جس کا وعدہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر کیا گیا تھا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سروے سے متعلق اعداد و شمار کو خصوصی بی سی کمیشن کی جانب سے استعمال کیا جائے گا۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ سروے کی تفصیلات پر مبنی ڈیٹا انٹری کا کام مکمل ہوچکا ہے اور رپورٹ کا مسودہ ایک یا دو دن میں پیش کردیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ 2 فروری تک قطعی رپورٹ کابینی سب کمیٹی کو پیش کردی جائے۔ حکومت نے عوام کی سماجی، معاشی، تعلیمی صورتحال کے علاوہ ملازمت اور سیاست میں حصہ داری کا جائزہ لینے 6 نومبر کو جامع سروے کا آغاز کیا تھا۔ تمام اضلاع میں ڈسمبر کے پہلے ہفتہ تک سروے کا کام مکمل کرلیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک لاکھ ملازمین کی خدمات حاصل کی گئیں جن میں شمار کنندگان، سوپروائزرس اور ڈیٹا انٹری آپریٹرس شامل ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اسٹیٹ پلاننگ ڈپارٹمنٹ نے سروے کو مہا یگنہ کے طور پر مکمل کیا ہے۔ سروے کے تحت ریاست میں تقریباً 1.16 کروڑ خاندانوں کی نشاندہی کی گئی۔ شمار کنندگان نے گھر گھر جاکر خاندانوں کی تفصیلات ریکارڈ کیں۔ سروے ٹیموں نے96 فیصد خاندانوں کی تفصیلات جمع کرلی ہیں اور ڈیٹا انٹری کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بعض وجوہات کے سبب بعض خاندانوں نے سروے میں حصہ نہیں لیا، بعض نے تفصیلات دینے سے انکار کیا، بعض کے مکانات مقفل تھے اور بعض خاندان دستیاب نہیں تھے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اقتدار کے اندرون دو ماہ طبقاتی سروے کی تجویز کو منظوری دی اور 16 فروری کو اسمبلی میں قرارداد منظور کی گئی۔12 ستمبر کو کابینی سب کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے سروے کے طریقہ کار کو طئے کیا۔ ریاستی وزیر اتم کمار ریڈی کی زیر قیادت کمیٹی نے کئی اجلاس منعقد کرتے ہوئے حکومت کو سفارشات پیش کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 9 اکٹوبر کو کابینی سب کمیٹی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور پلاننگ ڈپارٹمنٹ کو نوڈل ایجنسی کے طور پر مقرر کیا گیا تاکہ سروے کی تکمیل کی جاسکے۔ حکومت نے 10 اکٹوبر کو جی او نمبر 18 جاری کرتے ہوئے طبقاتی سروے کے طریقہ کار کا تعین کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ قطعی رپورٹ کی پیشکشی کے بعد فلاحی اسکیمات میں حصہ داری طئے کی جائے گی۔1