جانبدار ‘ گمراہ کن ٹی وی مباحث

   

Ferty9 Clinic

اَنا کے زخم تو اک روز بھر ہی جائیں گے
جبینِ ظرف، کسی در پہ خم نہیں کرنا
جانبدار ‘ گمراہ کن ٹی وی مباحث
ملک میں ٹی وی مباحث کئی مسائل کی وجہ بن رہے ہیں۔ پرائم ٹائم ٹی وی مباحث ملک میں نفرت کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں اور ان کے ذریعہ گمراہ کن اطلاعات گشت کروائی جا رہی ہیں۔ عوام کے ذہنوں میں زہر انڈیلا جا رہا ہے ۔ سماج کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی بجائے ان میں دوریاں اور نفرتیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ انہیں مسائل سے با خبر کرنے اور حکومت کو جھنجھوڑنے کی بجائے انہیں خواب غفلت کا شکار کرتے ہوئے نزاعی اور اختلافی مسائل میں الجھایا جا رہا ہے ۔ یہ ایک عام تاثر ہوگیا تھا تاہم ایسا لگتا ہے کہ ٹی وی مباحث پر بیٹھنے والے زر خرید ٹی وی اینکروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیںہے اور وہ صرف اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کیلئے ملک کی جمہوری اقدار اور سماجی تانے بانے کو نقصان پہونچانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ زندگی کے ہر مسئلہ کو تعصب اور مذہب کی عینک سے دیکھتے ہوئے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں ٹی وی چینلس ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کی اکثریت اس بات کو محسوس کرتی ہے تاہم ان کے خلاف حکومتی سطح پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔ اب خود ملک کے چیف جسٹس نے ان ٹی وی مباحث کی پول کھول کر رکھ دی ہے اور شدید ریمارکس کرتے ہوئے کہا کہ یہ مباحث گمراہ کن اور جانبدارانہ ہیں۔ ان میں حقائق کا فقدان ہے اور مباحث کو جانبدارانہ انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مباحث کے ذریعہ ملک کو آگے بڑھانے کی بجائے پیچھے کی سمت ڈھکیلا جا رہا ہے ۔ ٹی وی چینلوں پر بیٹھنے والے جو پیانلسٹ ہوتے ہیں ان کے تعلق سے بھی یہ تاثر عام ہے کہ وہ بکے ہوئے ہیں اور چند روپیوں کے عوض ٹی وی اینکروں کے ہاتھوں کا کھلونا بنتے ہیں۔ عوامی مسائل پر مباحث کرنے کی بجائے ان چینلوں پر اختلافی اور نزاعی مسائل کو ہوا دی جاتی ہے ۔ مذہبی تعصب کو فروغ دینے میں ہر ٹی وی اینکر خود کو آگے رکھنا چاہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان چینلوں پر عوامی مسائل کی بجائے نفرت کے ایجنڈہ کو آگے بڑھانے پر ہی تو جہ مرکوز کی جاتی ہے ۔
ٹی وی چینلوں کو احتساب کا مشورہ بھی دیا گیا ہے تاہم یہ چینلس اور اس پر بیٹھ کر بکواس کرنے والے اینکرس کو کسی احتساب کا مشورہ پسند نہیں آئے گا ۔ وہ سیاسی اشاروں پر کام کرنے اور تلوے چاٹنے والے بن گئے ہیں۔ انہیں عوامی مسائل کی کو ئی فکر نہیں ہے ۔ ان اینکروں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے کہ 60 روپئے فی لیٹر والا پٹرول اب 110 روپئے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے ۔ اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ 400 روپئے والا گیس سلینڈر اب ایک ہزار روپئے سے زیادہ قیمت کا ہوگیا ہے ۔ 70 روپئے فی کیلو ملنے والی دال اب 170 روپئے ہوگئی ہے ۔ خوردنی تیل کی قیمت 70 روپئے فی کیلو سے بڑھ کر 200 روپئے تک پہونچ گئی ہے ۔ ان مسائل پر کوئی چینل مباحث کرنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی حکومت سے سوال کرنے کو تیار ہے ۔ ان چینلس یا ان کے اینکرس کو اس بات سے کوئی تعلق نہیں رہ گیا ہے کہ ملک کی معاشی حالت ابتر ہو رہی ہے ۔ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا ہے ۔ بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔صنعتی پیداوار متاثر ہونے لگی ہے ۔ افراط زر کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بے شمار کارخانے اور فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔ بیرونی کمپنیوں نے ہندوستان میں نفع کمانے کے بعد اب اپنے کاروبار اور دولت کو سمیٹنا شروع کردیا ہے ۔ یہ کمپنیاں اب ہندوستانی مارکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے بیرونی ملکوں کا رخ کرنے لگی ہیں۔ کچھ تو کرچکی ہیں اورکچھ کرنے کے منصوبوں کو قطعیت دے رہی ہیں۔
ان چینلس کو یہ پرواہ نہیں ہے کہ ملک میں خواتین پر مظالم میں کس حد تک اضافہ ہوگیا ہے ۔ کتنے نوجوان ہر منٹ میں خود کشی کر رہے ہیں۔ کتنے افراد کا ایک منٹ میں قتل ہو رہا ہے اور کتنی خواتین کی عصمتوں کو تار تار کیا جا رہا ہے ۔ چینلس کو اگر پرواہ ہے تو اس بات کی کہ کس مال میں نماز پڑھی جا رہی ہے ۔ کس مال میں ہنومان چالیسا کا پاٹھ کیا جانا چاہئے ۔ کون کیا کھا رہا ہے اور کس کو کیا پہننا چاہئے ۔ ملک کی ترقی اور جمہوریت سے کھلواڑ کرتے ان چینلوں کو کم از کم اب اپنے آپ کاجائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جمہوریت کو مستحکم کرنا ہر ہندوستانی کا فریضہ ہے ۔ ملک کی ترقی کو یقینی بنانا ہر شہری کا کام ہے ۔ معمولی سے مفادات کیلئے ملک کی جمہوریت اور ترقی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔ ملک کی روایات اور اقدار کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اپنے فرائض حقیقی معنوں میں انجام دینے کی جرا ت پیدا کرنی چاہئے ۔
بیرونی کمپنیوں کی واپسی
ملک میں فراخدلانہ معاشی پالیسیوں کو متعارف کروائے جانے کے بعد ہندوستان میں بیرونی کمپنیوںاور اداروں کیلئے دروازے کھل گئے تھے ۔ کئی بیرونی کمپنیوں نے ہندوستان میںاپنی تجارت کا آغاز کیا تھا ۔ مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کئے گئے تھے ۔ ہندوستان میں جو سہولتیں دستیاب تھیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے خود ان کمپنیوں نے بھی فائدہ حاصل کیا اور ملک کے نوجوانوں کو بھی روزگار کے مواقع دستیاب ہوئے تھے ۔ ہندوستان کی صنعتی اور مالیاتی صورتحال میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی تھیں۔ ملک کے عوام کے معیار زندگی میں بہتری آئی تھی ۔ روزگار کی شرح میں اضافہ ہوا تھا اور صنعتی پیداوار بھی خاطر خواہ حد تک بڑھ گئی تھی ۔ تاہم اب دھیرے دھیرے بیرونی کمپنیاں ہندوستان سے واپسی کی راہ تلاش کرنے میں مصروف ہوگئی ہیں۔ کچھ کمپنیوں نے خاموشی سے اپنا سرمایہ ہندوستانی مارکٹ سے نکالنا شروع کردیا ہے ۔ وہ ہندوستان میں اچھی خاصی تجارت کے ذریعہ نفع کمانے میں بھی کامیاب رہی ہیں تاہم اب اپنے نفع اور اصل سرمایہ کے ساتھ دوسرے ممالک کا رخ کرنے لگی ہیں۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ نئے روزگار نہیں مل رہے ہیں۔ یہ حالانکہ ابھی ابتدائی مرحلہ ہے تاہم اس کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔ حکومت کو اس تعلق سے چوکسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان وجوہات کا جائزہ لینا چاہئے جن کی وجہ سے یہ کمپنیاں واپسی کیلئے پر تول رہی ہیں۔ حالات کو بہتر بناتے ہوئے کمپنیوں کی واپسی کا سلسلہ جلد روکا جانا چاہئے ۔