جاپان : بچوں میں خود کشی کے رجحان میں اضافہ

   

ٹوکیو ۔ جاپان میں بچوں کی خودکشی کے تیزی سے بڑھتے واقعات نے حکومت کے ہوش اڑادیے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے پہلے 7ماہ کے دوران خود کشی کرنے والے بچوں کی تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ وزارت صحت کے مطابق جنوری تا جولائی کے دوران پرائمری اور سیکنڈری ہائی اسکولوں میں زیر تعلیم 270 طلبہ نے اپنی جان لے لی۔ یہ تعداد 2020 ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں 29 گنا زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران خود کشی کرنے والے بچوں کی تعداد ریکارڈ بلند سطح 499 تک جا پہنچی تھی۔ رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 7 بچے پرائمری اسکولوں، 75 بچے جونیئر ہائی اسکولوں اور 188 بچے سینئر ہائی اسکولوں میں زیر تعلیم تھے۔ وزارت تعلیم کے ماہرین کے ایک پینل نے عالمی وبا کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔ اس سے قبل جاپان میں خودکشی کی شرح میں اضافے سے نمٹنے کی کوششوں کے تحت رواں برس کے آغاز میں وزیر برائے تنہائی مقرر کیا گیا تھا۔ وزیر برائے تنہائی ٹیٹسوشی ساکاموٹو کو شہریوں میں تنہائی اور لوگوں کے درمیان الگ تھلگ رہنے میں کمی لانے کا ہدف دیا گیا تھا۔