برلن: جرمنی میں گزشتہ ہفتہ مظاہروں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ امیگریشن مخالف منصوبے کے حوالے سے انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے کرسچن ڈیموکریٹک یونین کی پارلیمانی قرارداد کی حمایت کی، جس کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد نے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی، جبکہ منتظمیں کے مطابق مظاہرین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب تھی۔اس مظاہرے میں ”فائر وال‘‘ کے نعرے بلند کیے گئے۔ اصطلاح ”فائر وال‘‘ سے مراد ایک تقسیم کرنے والی لکیر ہے، جس کے ذریعے جرمنی کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں خود کو جزوی طور پر دائیں بازو کے انتہا پسند جماعت متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) سے الگ کرتی ہیں۔ اس مظاہرے کا مقصد دیگر جماعتوں کو اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون کرنے سے روکنا تھا۔ اس احتجاج کا پس منظر یہ ہے کہ گزشتہ چہارشنبہ کو جرمنی کی قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) اور صوبے باویریا میں اس کی ہم خیال جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کی طرف سے ملک میں سیاسی پناہ کی پالیسی کو سخت بنانے کیلئے جرمن پارلیمان میں ایک قرارداد پیش کی گئی تھی۔ اس قرارداد کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے حمایت کی تھی اور ایسا پہلی مرتبہ ہوا کہ جرمن پارلیمان میں ووٹنگ کے دوران کسی بڑی سیاسی جماعت کو اے ایف ڈی کی حمایت حاصل ہوئی۔
جمعے کو اسی تناظر میں سی ڈی یو اور سی ایس یو نے ایک قانون متعارف کرایا تھا، جو جرمن پارلیمان (بنڈس ٹاگ) میں ناکام ہو گیا۔ اے ایف ڈی نے اس ووٹنگ میں بھی سی ڈی یو اور سی ایس یو کا ساتھ دیا لیکن دونوں قدامت پسند یونین جماعتوں (سی ڈی یو اور سی ایس یو) کے ساتھ ساتھ لبرل فری ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی اراکین نے اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔برلن میں گزشتہ روز کے مظاہرے سے یہودی مصنف میشل فریڈمان، جنہوں نے حالیہ واقعات کی وجہ سے سی ڈی یو کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اے ایف ڈی کو ”نفرت کی جماعت‘‘ اور اے ایف ڈی کے ساتھ سی ڈی یو اور سی ایس یو کے مشترکہ ووٹ کو ”ناقابل معافی غلطی‘‘ قرار دیا۔مظاہرین جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں فکر مند تھے۔ گزشتہ روز مظاہرے میں شریک ایک خاتون نے ڈی ڈبلیو کو بتایا: ”میرے خیال میں سی ڈی یو اور ایف ڈی پی جیسی جمہوری مرکز کی جماعتوں پر یہ واضح کرنا بہت ضروری ہے کہ وہ جمہوری مرکز کو چھوڑنے کے عمل میں ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اگر فریقین کو اس کا علم نہیں تو انہیں اس سے آگاہ کیا جانا ضروری ہے۔