جرمنی میں نسل پرستانہ توہین ،طلبہ کیمپ چھوڑ کر چلے گئے

   

برلن: پولیس کا کہنا ہے کہ طلبہ کے ایک گروہ نے ایک دوسرے گروپ کی نسل پرستانہ توہین کی اور انہیں دھمکیوں کا نشانہ بنایا، تو متاثرہ بچے ریاضی کے کیمپ سے رخصت ہو گئے۔جرمن پولیس نے 8 مئی کو بتایا کہ مشرقی ریاست برانڈن برگ میں اسکول کے بچوں کے ایک گروپ کو عمومی دھمکی کے ساتھ ہی نسل پرستی کی بنیاد پر بھی دھمکی دی گئی، جس کے بعد طلبہ ریاضی سے متعلق یہ کیمپ چھوڑ کر کے وہاں سے چلے گئے۔جن طلبہ کو نشانہ بنایا گیا، ان میں سے بیشتر کا تعلق نسلی اقلیت سے ہے۔ پولیس نے بتایا کہ یہ طلبہ علاقہ میں کسی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے گئے تھے، جہاں طلبہ کے ایک دوسرے گروپ نے ان کے خلاف نسل پرستانہ باتیں کیں، جس کے بعد ان کے استاد انہیں لے کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔اس واقعہ کے بعد پولیس افسر برلن کے جنوب مشرق میں واقع فراؤان زے کیمپ سے بچوں کو باہر لے گئے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس واقعہ کی تحقیقات ایک ایسا علاقائی پولیس یونٹ کر رہا ہے، جو سیاسی محرکات پر مبنی جرائم پر نگاہ رکھنے کا کام کرتا ہے۔