جرمن پارلیمان پر حملہ، روسی افسران کیخلاف پابندیاں عائد

   

Ferty9 Clinic

برلن: یورپی یونین نے2015 میں جرمن پارلیمان پر ایک سائبر حملے کے واقعے کے خلاف روس کی ملٹری انٹلی جنس ایجنسی کے سربراہ سمیت دو روسی افسران پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔یورپی یونین نے جرمن پارلیمان پر سائبر حملہ کرکے ڈیٹا چرانے کے واقعے میں روس کی ملٹری انٹلیجنس کے سربراہ ایگور کوستیو کوف اور ایک دیگر افسرپر جمعرات کے روز پابندیاں عائد کردیں۔یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں افسران 2015 میں جرمن پارلیمان بنڈس ٹاگ پر کمپیوٹر ہیکنگ حملے کے لیے ذمہ دار پائے گئے تھے۔روس نے ان الزامات کی ‘من گھڑت کہانی‘ کہتے ہوئے تردید کی ہے اور کہا کہ یورپی یونین کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔یورپی یونین نے کوستیو کوف اور ملٹری انٹلیجنس کے افسر دمیتری باڈن پر سفری پابندیاں عائد کردیں اور ان کے اثاثے منجمد کردیے ہیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ باڈن اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے جرمن پارلیمان پر سائبر حملے میں حصہ لیا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس سائبر حملے میں پارلیمان کے انفارمیشن سسٹم کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی کئی دنوں تک متاثر رہی۔ حملہ کرکے بڑی مقدار میں ڈیٹا چرالیا گیا اور متعدد ممبران پارلیمان بشمول چانسلر انگیلا میرکل کے ای میل متاثر ہوئے۔”بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جرمن قانون سازوں کے دفاتر کے متعدد کمپیوٹروں کو اسپائی ویئر سے متاثر کیا گیا۔ ان میں چانسلر میرکل کے دفتر کے کمپیوٹر بھی شامل تھے۔ اس سائبر حملے کی وجہ سے جرمن پارلیمان کے پورے انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم کو ازسر نو مرتب کرنا پڑا۔