جسمانی امراض کا علاج تو روحانی اصلاح کی طرف کاہلی کیوں

   


شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 11؍ نومبر (پریس نوٹ) اللہ رب العزت نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ہے۔ اللہ تعالی کا قرآن میں ارشاد ہے کہ ’بیشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ہے‘۔ دوسری جگہ اللہ کا ارشاد ہے کہ ’میں نے اپنے ہاتھوں سے انسان کو پیدا کیا ہے‘۔ انسان کو چار چیزوں آگ، مٹھی، ہوا اور پانی کے مرکب سے بنایا گیا ہے جسے عناصر اربعہ کہا جاتا ہے۔ ان چارچیزوں کی خصوصیات کے ساتھ انسان میں خواہشات بھی ہیں۔ انسانوں کی ترقی، ہدایت اور کامیابی کے لیے االلہ نے شریعت عطا کی اور اسے عملی طور پر انسانوں میں نافذ کرنے کے لیے انبیا کرام کو مبعوث کیا۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عامہ میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے جمعہ کے خطبہ کے دوران کیا۔مولانا احسن الحمومی نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آپؒ بیک وقت مفسر، محدث، مصلح اور صاحب دل ولی تھے۔ اللہ والے جسم سے توجہ ہٹا کر روح کی جانب توجہ مبذول کراتے ہیں۔ انسانی جسم میں روح کا ترجمان و نمائندہ دل ہے۔ دل، جسم و روح کو جوڑتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ’ بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ سنور جاتا ہے تو تمام بدن سنور جاتا ہے اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو تمام بدن خراب ہو جاتا ہے، سنو وہ دل ہے‘۔ آج جسمانی امراض کے لیے کئی جگہ ماہر ترین ڈاکٹرس دستیاب ہیں لیکن اگر دل خراب ہو تو اس کی اصلاح کون اور کیسے کرے؟ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ’ جو لوگ اللہ سے سرکشی کرتے ہیں تو اللہ ان کے دل پر مہر لگادیتا ہے‘۔ ہم غیر ضروری کاموں کی وجہ سے اپنے دل کو خراب کرلیتے ہیں، لیکن برسوں گزرنے کے باوجود بھی اس کی اصلاح کی فکر نہیں ہوتی۔مولانا احسن نے کہا کہ ہم چہروں کو خوبصورت بنانے کی کوشش و فکر کرتے ہیں لیکن رب دو جہاں انسان کے جس دل کو دیکھتے ہیں اس کو صاف بنانے اور اس کو اللہ کے لیے خالص کرنے کی فکر نہیں ہوتی۔مولانا احسن نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے؟ تو حضورؐ نے فرمایا کہ جس کی سچی زبان اور مخموم قلب ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کا دل تقویٰ سے بھرا ہوا ہو، جس کے دل میں کسی سے دشمنی اور کسی سے حسد نہ ہو۔ علامہ اقبال نے بھی کہا کہ ’’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی؍ تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن‘‘، ’’من کی دنیا من کی دنیا سوز و مستی جذب و شوق ؍تن کی دنیا تن کی دنیا سود و سودا مکر و فن‘‘، ’’من کی دولت ہاتھ آتی ہے تو پھر جاتی نہیں ؍ تن کی دولت چھاؤں ہے آتا ہے دھن جاتا ہے دھن‘‘، ’’من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج ؍ من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن‘‘، ’’پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات ؍ تو جھکا جب غیر کے آگے نہ من تیرا نہ تن‘‘ اللہ والوں کا امت مسلمہ پر احسان ہے کہ وہ انسانوں کے دل کی دنیا کو سنواتے ہیں۔