“جسم سے سارا خون نکالو لیکن…” : مہاراشٹر میں کسانوں کو رُلا رہی پیاز، کسان فصل جلانے پر مجبور وزیراعلیٰ سے التجا

   

ممبئی: پیاز اب مہاراشٹرا بالخصوص ناسک میں کسانوں کو رلا رہا ہے۔ پیاز کے کاشتکار مناسب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس کی مخالفت میں وہ اپنی پوری پیاز کی کاشت کو جلا رہے ہیں۔ اس کے ذریعے انہوں نے حکومت کے خلاف اپنے غصے اور احتجاج کا اظہار کیا ہے۔ پیاز کے کاشتکاروں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایک کسان کرشن بھگوان ڈونگرے نے کہا، “پیاز لگانے پر مجھے تقریباً سوا لاکھ روپے کا خرچہ آیا ہے، ایسے میں میں اپنے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا تھا۔ اگر آج کے حالات پر نظر ڈالیں تو پیاز کا کسان مہاراشٹرا میں دو روپے (فی کلو) مل رہے ہیں، اس لیے مجھے پیاز جلانا پڑ رہا ہے۔” انہوں نے کہا، “میں نے یہاں ڈیڑھ ایکڑ میں پیاز لگایا، اس پر ایک لاکھ 25 ہزار روپے خرچ ہوئے، اسے فروخت کرنے کے لیے 30 ہزار روپے کا خرچ آرہا ہے۔انہوں نے کہا، “میں مرکزی حکومت سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ میری پیاز جلا دی گئی ہے لیکن مہاراشٹر کا کسان مکمل طور پر حوصلہ شکن ہو چکا ہے، وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہے، اسے برآمد کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔” انہوں نے کہا، “میں مہاراشٹر حکومت سے کچھ بھی کہنا نہیں چاہتا، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ کو اس صورتحال کا علم تھا میں نے انہیں اپنے خون سے لکھا ہوا خط دیا تھا میں وزیر اعلیٰ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرے جسم سے سارا خون نکال لو لیکن کسانوں کے مسائل پر توجہ دیں۔