جسٹس سنجیو کھنہ کی بحیثیت چیف جسٹس حلف برداری

,

   

صدردروپدی مرمو نے ملک کے51ویں سی جے آئی کوعہدہ کا حلف دلایا

نئی دہلی :جسٹس سنجیو کھنہ ملک کے نئے چیف جسٹس آف انڈیا بن گئے ہیں۔ راشٹرپتی بھون میں پیر کو منعقدہ ایک تقریب میں انہیں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے عہدہ کا حلف دلایا۔ اس موقع پر کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔ حلف براری کے ساتھ ہی جسٹس کھنہ 51 ویں چیف جسٹس آف انڈیا بن گئے ہیں۔ ان کی مدت کار 13 مئی 2025 تک یعنی تقریباً صرف6 مہینے کی ہوگی۔چیف جسٹس آف انڈیا کے طور پر جسٹس سنجیو کھنہ کے نام کی سفارش جسٹس چندرچوڑ نے کی تھی۔ چندرچوڑ 10 نومبر کو 65 سال کی عمر میں اس عہدہ سے سبکدوش ہو گئے۔ 14 مئی 1960 کو پیدا ہوئے سنجیو کھنہ نے دہلی یونیورسٹی کے کیمپس لاء سنٹر سے قانون کی تعلیم حاصل کی ہے۔جنوری 2019 سے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر وہ کام کر رہے ہیں۔ جسٹس سنجیو کھنہ اس دوران کئی بڑے فیصلوں کا حصہ رہے ہیں۔ ان میں ای وی ایم کی شفافیت کو بنائے رکھنے، انتخابی بانڈ منصوبہ کو ختم کرنا، دفعہ 370 کو منسوخ کرنا اور دہلی کے سابق چیف منسٹرکیجریوال کو عبوری ضمانت دینے جیسے فیصلے شامل ہیں۔سپریم کورٹ میں سینئریٹی ضابطہ کے مطابق جسٹس سنجیو کھنہ 11 نومبر 2024 سے 13 مئی 2025 تک سی جے آئی کے طور پر ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کی قیادت کریں گے۔ سپریم کورٹ میں 18 جنوری 2019 کو جج کے طور پر حلف لینے کے بعد سے اب تک تقریباً 6 سال کے دوران جسٹس کھنہ یہاں 456 بنچ کا حصہ رہے اور 117 فیصلے انہوں نے لکھے۔ دہلی کے ماڈرن اسکول، بارا کھمبہ روڈ سے اسکولی تعلیم پوری کرکے وہ 1980 میں دہلی یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئے۔ پھر انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے ہی کیمپس لاء سنٹر یعنی سی ایل سی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔جسٹس سنجیو کھنہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور دہلی ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس دیو راج کھنہ کے بیٹے اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ایچ آر کھنہ کے بھتیجے ہیں۔ وہ این اے ایل ایس اے کے ایگزیکٹیو صدر تھے۔ انہوں نے 1983 میں دہلی بار کونسل میں ایک وکیل کے طور پر اندراج کرایا اور شروعات میں یہاں تیس ہزاری ضلع عدالت میں اور بعد میں دہلی ہائی کورٹ میں پریکٹس کی۔