جسٹس مرلی دھرتبادلہ معاملہ میں کانگریس پرسیاست کرنے کاالزام:روی شنکرپرساد

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی، 27 فروری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر قانون روی شنکر پرساد نے دہلی ہائی کورٹ کے جج ایس مرلي دھر کے تبادلہ پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کانگریس کی جمعرات کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تبادلہ کا نوٹیفکیشن مقرر عمل کے تحت جاری کیا گیا ہے ۔مسٹر پرساد نے کانگریس کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس مرلي دھر کا تبادلہ سپریم کورٹ کلجیم کی سفارش کے بعد قانونی عمل کے تحت کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے تمام قانونی ضابطوں کا استعمال کیا گیا۔قانون و انصاف کے وزیر نے کہا کہ روٹین تبادلہ کو سیاست زدہ کرکے کانگریس نے عدلیہ کی ایک بار پھر توہین کی ہے ۔ ہندوستان کے لوگوں نے کانگریس پارٹی کو مسترد کر دیا ہے ، اس لئے اس نے ملک کے ہر ادارے کو نیچا دکھانے کا بیڑا اٹھا یاہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج بی ایچ لویا کی موت کے معاملہ کو سپریم کورٹ نے نمٹا دیا ہے ، جو اس معاملہ میں فیصلہ پر سوال اٹھا رہے ہیں ان کے دماغ میں عدالت عظمیٰ کے تئیں کوئی احترام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا‘‘کیا راہل گاندھی خود کو عدالت عظمیٰ سے اوپر مانتے ہیں؟’’وزیر قانون نے کہا، “ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں لیکن عدلیہ کی آزادی سے سمجھوتے کاکانگریس کا پرانا ریکارڈ رہا ہے ۔ ایمرجنسی کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی سینئرٹی کو درکنار کر دیا گیا تھا’’۔انہوں نے کہا کہ کانگریس صرف اس معاملہ میں خوش ہوتی ہے ، جب اس کے دل کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے ورنہ وہ عدلیہ کی توہین کرتی ہے ۔