نئی دہلی : ورلڈ ہندو فاؤنڈیشن کے بانی سوامی وگیانند نے سپریم کورٹ کے جج روہنگٹن نریمن کے رگ وید سے متعلق ریمارکس کو حقائق طورسے غلط اورانتہائی توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس ریمارکس سے دنیا کے 1.2 ارب ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جس کیلئے انہیں غیر مشروط معافی مانگنی چاہئے ۔جسٹس نریمن نے 16 اپریل کو 26 ویں جسٹس سنندا بھنڈارے میموریل لیکچر کے دوران رگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے سناتن روایت میں خواتین کے وقار کے سلسلہ میں مبینہ متنازع تبصرے کئے تھے ۔ خیال رہے جسٹس روہنگٹن نریمن سوامی وگیا نند سنیاس آشرم میں داخل ہونے سے پہلے ٹکنالوجی آف انڈین انسٹی ٹیوٹ ( آئی آئی ٹی) کے ہونہار طالب علم رہ چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے سنسکرت زبان پر پی ایچ ڈی کی اور پانینی گرامر ، ویدانگ ، مشرقی فلسفہ ، برہمن گرنتھ اور ویدک سنہتہ پر مطالعہ ، تحقیق اور تعلیم دی۔سوامی وگیانانند نے یہاں کہا کہ رگ وید سمیت ویدوں کو صحیح ڈھنگ سے سمجھنے کے لئے ، رگ وید سمیت رشی پاننی کے گرامر ‘نروکت’ اور پرتیشٹھا ’ کے بارے میں جاننا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وید ایسی عبارتیں نہیں ہیں جن کی صرف لفظی ترجمانی کی جانی چاہئے ۔ ویدوں کو سمجھنے کیلئے ‘ویدک سنسکرت کا گیان’ لازمی ہے اور ویدک سنسکرت جدید سنسنکرت سے کئی معنوں میں مختلف ہے ۔ ایک اور چیز کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ وید تو صرف منتر سنہتہ ( کوڈ ) ہیں۔ پانینی گرامر ، نگھنٹو ، نرکٹ ، پراتی شاکھیہ اور برہمن کی مکمل جانکاری کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔جسٹس نریمن کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘‘مجھے یقین ہے کہ آپ میں ویدوں اور قدیم ہندو متوں کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ’’۔ لہذا ، آپ کو ثانوی ذرائع سے موصولہ معلومات کی بنیاد پر قدیم ہندو متوں پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ آپ ملک کی عدلیہ میں ایک ذمہ دار پوزیشن پر براجمان ہیں۔ آپ کو ذمہ داری کے ساتھ اس ملک کے عظیم مذہب اور ثقافت کی عظمت سے متعلق باتیں ذمہ داری سے کہنی چاہئے ۔ آپ نے اپنے غلط ریمارکس کے ذریعہ دنیا میں ہندو مذہب کے 1.2 ارب پیروکاروں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا ہے ’’۔
