حیدرآباد۔/24 ستمبر، ( سیاست نیوز) کالیشورم پراجکٹ اور میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر میں بے قاعدگیوں اور نقائص کا جائزہ لینے والی جسٹس پی سی گھوش کمیشن کے روبرو آج کئی عہدیداروں نے پیش ہوکر اپنے بیانات قلمبند کرائے ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے اوپن کورٹ اجلاس میں آج کئی امور کا انکشاف ہوا۔ مختلف شعبہ جات کے 5 انجینئرس نے کمیشن کے روبرو پیش ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کرایا جو میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر سے متعلق تھا۔ میڈی گڈہ بیاریج کے ایگزیکیٹو انجینئر تروپتی راؤ نے اعلیٰ عہدیداروں کی اطلاع کے بغیر ہی ایجنسیوں کو 1600 کروڑ روپئے کی بینک گیارنٹی دی تھی۔ انجینئرس نے بتایا کہ پراجکٹ کا ڈیزائن کس نے تیار کیا اس بارے میں وہ لاعلم ہیں۔ جسٹس پی سی گھوش کے سوال پر عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کی ایماء پر ایک مخصوص ادارہ نے ڈیزائن تیار کیا۔ ادارہ کو حکومت کی جانب سے کئی مراعات دی گئیں۔ عہدیداروں نے بیاریج کو نقصانات کی وجوہات کے بارے میں بھی کمیشن سے وضاحت کی اور کہا کہ بھاری مقدار میں پانی کی آمد کے نتیجہ میں نقصان ہوا ہے۔ انجینئرس سے جسٹس گھوش نے کئی سوالات کئے۔ تحقیقاتی کمیشن نے اوپن کورٹ میں سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔1