جس نے بھوک کا درد سہا وہ پرتھ کی پچ سے کیا ڈرے گا

   

پرتھ ۔ یشسوی جیسوال نے پرتھ ٹسٹ کی دوسری اننگز میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، جہاں وہ شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری کے قریب پہنچ چکے ہیں اور ناٹ آؤٹ رہے۔ نوجوان بائیں ہاتھ کے ہندوستانی اوپنرکے لیے یہ اننگز کھیلنا آسان نہیں تھا کیونکہ یہ آسٹریلیا میں ان کے کیریئر کی صرف دوسری ٹسٹ اننگز ہے۔ اس کے علاوہ وہ پہلی اننگز میں بھی صفر پر آؤٹ ہوئے تھے۔ ظاہر ہے وہ بھی دباؤ میں رہے ہوں گے لیکن جس نے بھوک کا درد سہا ہو، وہ آسٹریلیا کی پچ سے کیسے ڈر سکتا ہے؟ دوسری اننگز میں پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور مچل مارش کے تجربہ کار بولنگ کو شکست دے کر جیسوال نے پوری دنیا میں پرتھ سے اپنا تعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔ یشسوی جیسوال کے غربت سے بھرے بچپن کے دنوں کو یاد کیا جاتا ہے ۔ ان راتوں کو یادکیا جاتا ہے جو اس نے خیمے میں گزاری تھیں۔ انہیں جدوجہد کرنی پڑتی تھی کہ کیسے کھائیں۔ اپنی روزی کمانے کے لیے وہ آزاد میدان میں رام لیلا کے دوران گول گپے بیچتے تھے۔ اس دوران کئی بار انہیں خالی پیٹ یا صرف آدھے پیٹ کے ساتھ رہنا پڑا تھا لیکن ان تمام چیلنجوں کے باوجود وہ ہارا نہیں۔ انہوں نے ان چیلنجوں کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی اور کرکٹر بننے اور ہندوستان کے لیے کھیلنے کے اپنے خواب کو پورا کیا۔ جیسوال کی یہ اننگز بڑی ہٹ ثابت ہوگی۔ یہ اننگز انہیں ریڈ بال کرکٹ میں ان کے بڑے مقام کو قائم کرنے جا رہی ہے۔ یہ اننگز دنیا کو بتانے والی ہے کہ یشسوی نہ صرف ہندوستانی پچوں پر بلکہ آسٹریلیا جیسی مشکل حالات میں بھی ماہر بیٹر ہیں۔ پرتھ میں شاندار اننگزکھیل کر جیسوال نے نہ صرف اپنا نام بلند کیا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا ہے کہ عالمی کرکٹ کا مستقبل ان کا ہے۔