جلیل القدر صوفی حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ

   

Ferty9 Clinic

ڈاکٹر فیض احمد چشتی
عظیم مبلغ اسلام اور جلیل القدر صوفی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے ایک نہایت اہم بزرگ ہیں ۔سلطان الہند والدکی طرف سے ’’حسینی‘‘اور والدہ کی طرف سے’’حسنی‘‘سیدیعنی آپ ’’نجیب الطرفین سید‘‘ ہیں۔آپ کاسلسلہ نسب تیرھویں پشت میں خلیفہ چہارم اور دامادِ رسول ﷺامیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے جاملتاہے۔ آپ برصغیر ہند و پاک میں سلسلہَ چشت کے بانی تصور کئے جاتے ہیں اور ’سلطان الہند‘ اور ’غریب نواز‘ کے القاب سے مشہور ہیں ۔
آپ ہندوستان میں اسلام کے اولین مبلغین میں سے تھے اور آپ کی کاوشوں سے لاکھوں افراد دائرہَ اسلام میں داخل ہوئے ۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ (ولادت ۵۳۷؁ھ، وفات ۶۳۳؁ھ ) نے اسلامی علوم و دعوتی جدوجہد اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ ہندوستان میں روحانی سلطنت، اسلام کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ پہلی صدی ہجری میں ہی یہاں اسلام کی تبلیغ کے دستے آنے شروع ہوگئے تھے لیکن آپ کی آمد کے بعد آپ کی ایمانی، روحانی، اخلاقی تعلیما ت نے ہندوستان میں اسلام کو جلا بخشی اور ہزاروں ہزارکی تعداد میں لوگ جوق در جوق مسلمان ہونے لگے۔ صرف ایک سفر دہلی سے اجمیر جاتے ہوئے راستے میں سات سو ہندوؤں کو مسلمان کیا۔آپؒ سب کے ساتھ محبت، انسانیت کا برتاؤ کرتے تھے۔ چھوٹوں پر پیار نچھاور کرتے اور دوسری قوم کے لوگوں پر پیار لٹاتے، غربا پر حد درجہ شفقت فرماتے، تیمارداری کرتے مریضوں غریبوں کی خدمت کرتے تب یہ انمول نام ، ’’غریب نواز‘‘ کا لقب خاص الخاص ہوا۔ آج بھی کروڑوں لوگ آپ کی غریب نوازی کے فیض سے مالا مال ہورہے ہیں۔ تبلیغِ اسلام کے مشن کے دوران آپ نے لمبے لمبے سفر کئے،آپ نے تزکیہ نفس، اصلاح اخلاق اور روحانی تربیت کا مرکز اپنی خانقاہ کو بنایا اور اسلامی معاشرے کو مستحکم اور مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی انتھک کاوشیں کیں ۔
اپنی مومنانہ بصیرت و اعلیٰ اخلاق سے آپ لوگوں کو سادہ اور سیدھی نصیحتیں کرنے لگے اور اپنی اصلاحی مجالس سے دعوتِ دین کا کام کرنے لگے ۔آپ نے دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن مجید کے علم و حکمت اور تزکیہ و تصفیہ پر مبنی منہج پرچلانے کا عزم کیا اور اخلاص و امید سے اپنے کام کا آغاز کیا ۔حضرت خواجہ ؒنے اپنے لئے حسین طرزِ تبلیغ کا انتخاب کیا جس میں علم و حکمت بھی ہے اور حسنِ کردار بھی، دلائل کی جولانی بھی اور روحانی اُبھار بھی ۔ ان ہی جیسے نفیس گلوں سے ان کے ملفوظات کا چمن بھی سر سبز و شاداب ہے ۔ غریب نوازؒ ایک طویل مدت تک مشارق ومغارب میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کرتے رہے۔ رشدوہدایت کی شمع جلاتے رہے۔ علم ومعرفت کو چہارسو پھیلاتے رہے۔لاکھوں افراد کومشرف بہ اسلام کیا۔ لاتعدادلوگوں کو صراطِ مستقیم پر گامزن کیا۔ ہزاروں کو رُشدوہدایت کا پیکر بنایا۔ الغرض یہ کہ آپ کی ساری زندگی امربالمعروف ونہی عن المنکرپر عمل کرتے ہوئے گزری۔ بالآخریہ عظیم پیکرعلم وعرفاں، حامل سنت وقرآں، محبوبِ یزداں، شریعت وطریقت کے نیرتاباں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ ۶ رجب المرجب ۶۳۳؁ھ ؍ ۱۲۳۶؁ ء کو غروب ہوکر واصلِ ربِّ دوجہاں ہوگیا۔روایات میں آتا ہے کہ جس وقت آپ کا وصال ہوا،آپ کی پیشانی مبارکہ پرنورانی خط میں تحریرتھا مَاتَ حَبِیْبُ اللّٰہ،فِیْ حُبِّ اللّٰہ یعنی اللہ کا دوست، اللہ کی محبت میں وصال فرماگیا۔
علم و فضل کے عظیم پیکر،تاجدارِ معرفت اوررشدو ہدایت کے اس عظیم سورج کو غروب ہوئے کئی سوسال گزرچکے ہیں مگراس کی گرمی وحرارت سے آج بھی طالبانِ علم و معرفت اسی طرح فیض یاب ہو رہے ہیں، جس طرح آپ کی حیاتِ مبارکہ میں ہوتے تھے ۔ دراصل یہی ولی اللہ ہیں جوآج بھی صدیاں گزرجانے کے باوجود لوگوں پر حکمرانی فرمارہے ہیں۔ اورکتنے ہی مادی حکومتوں کے مالک ذہن سے محو ہوگئے۔ حضور خواجہ غریب نواز کی زندگی پورے طور پر اسلام کی آبیاری اور خدمت خلق کیلئے وقت تھی۔ غریبوں، محتاجوں، بے سہاروں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ فرماتے تھے۔ غریبوں کی دستگیری میں ہمہ تن سرگرم عمل رہتے تھے۔آج بھی غریب نوازی فرمارہے ہیں۔ اللہ ہم تما م لوگوں کو آپ کی تعلیمات پر چلنے اور غریبوں کی مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

خواجہ غریب نوازحضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کا مزارپرانوار اجمیر شریف(انڈیا) میں مرجع خلائق ہے ۔آپ کے مزارِ پر انوار پر صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے بھی لا کھوں افراد بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ حاضر ہو تے ہیں ۔ اجمیر شریف میں آپ کی درگاہِ عا لیہ آج بھی ایمان و یقین اور علم و معرفت کے نو ر بر ساتی ہے اور ہزاروں خوش نصیب لو گ فیض یاب ہو تے ہیں ۔ آپ کا عرس مبارک ہر سال نہ صرف اجمیرمیں بلکہ پورے پاک وہند میں پورے عقیدت واحترام اورتزک واحتشام کے ساتھ منایاجاتا ہے۔
( شرح دیوانِ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری: محمد علی چراغ: صفحہ۰۳)