جمعۃ الوداع :رخصت ہوتے رمضان کا پیغام محاسبہ

   

حافظ محمد صابر پاشاہ
ماہِ رمضان المبارک اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم الشان نعمت ہے جو اہلِ ایمان کے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کر دیتی ہے۔ یہ مہینہ عبادت، ریاضت، مغفرت اور رحمت کا ایسا روحانی موسم ہے جس میں بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کے بے شمار مواقع حاصل کرتا ہے۔ روزہ، نمازِ تراویح، تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، صدقات،زکوۃ و خیرات اور دیگر اعمالِ صالحہ کے ذریعے مومن اپنے رب کی رضا کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ گویا رمضان المبارک وہ مقدس مہینہ ہے جس میں آسمانِ رحمت سے مغفرت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور بندوں کو گناہوں سے پاک ہونے کا سنہری موقع عطا کیا جاتا ہے۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں لیلۃ القدر جیسی بابرکت رات عطا کی گئی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اسی مہینے میں بندگانِ خدا اعتکاف کے ذریعے دنیاوی مصروفیات سے کنارہ کش ہو کر اپنے رب کی بارگاہ میں یکسو ہو جاتے ہیں۔ گویا رمضان المبارک انسان کے ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح کا مہینہ ہے۔
لیکن وقت کی رفتار ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔ جس مہینے کا استقبال خوشی، محبت اور روحانی شوق کے ساتھ کیا گیا تھا، اب وہی مہینہ رخصت ہونے کے قریب ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زندگی کے قیمتی لمحات تیزی سے گزر رہے ہیں اور بندے کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ یہی وہ وقت ہے جب اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک عجیب سی اداسی اور رقت پیدا ہوتی ہے کہ نہ معلوم اگلے سال رمضان المبارک نصیب ہوگا یا نہیں۔
اسی آخری عشرہ میں جمعۃ الوداع آتا ہے، یہ دن گویا رمضان المبارک سے جدائی کا اعلان ہوتا ہے۔ اس موقع پر اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک طرف عبادات کی مسرت ہوتی ہے تو دوسری طرف اس مبارک مہینے کے رخصت ہونے کا غم بھی محسوس ہوتا ہے۔جمعۃ الوداع دراصل اہلِ ایمان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ رمضان المبارک میں جو روحانی کیفیت، خشوع و خضوع، عبادت کا شوق اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوا ہے اسے باقی سال بھی برقرار رکھا جائے۔ رمضان صرف ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک تربیتی درسگاہ ہے جو انسان کو تقویٰ، صبر اور اخلاص کا سبق دیتی ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھکنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ رمضان المبارک کی برکتوں میں ایک اہم پہلو سحر اور افطار کے مبارک اوقات ہیں۔ سحر کا وقت رحمتوں اور برکتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺنے فرمایا:”سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔یہ وہ مبارک گھڑیاں ہوتی ہیں جب اہلِ ایمان رات کی خاموشی میں اٹھ کر اللہ کے حضور دعا و استغفار کرتے ہیں، سحری تناول کرتے ہیں اور روزے کی نیت کے ساتھ نئے دن کی عبادت کا آغاز کرتے ہیں۔ اسی طرح افطار کا وقت بھی نہایت روح پرور لمحہ ہوتا ہے جب بندہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ روزہ افطار کرتا ہے اور دعا کی قبولیت کی اُمید رکھتا ہے۔خواتین اسلام درحقیقت رمضان المبارک میں اپنے صبر، خلوص اور خدمت کے جذبے سے گھروں کو روحانی مرکز بنا دیتی ہیں اور گھر کے ماحول کو دینی و روحانی رنگ میں رنگ دیتی ہیں۔اسی مہینے میں اسلامی تاریخ کے عظیم واقعات بھی رونما ہوئے۔ غزوہ بدر کی فتح نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق قائم کیا۔ سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء ؓ کا یومِ وصال اسی مہینے میں آیا جو اہلِ بیتِ اطہار کی عظمت و طہارت کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اُم المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ ؓ وام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓکا یوم وصال اسی میں آیا ، اسی طرح مولائے کائنات حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی رمضان المبارک میں پیش آئی جو شجاعت، علم اور تقویٰ کی روشن مثال ہے۔ یہ تمام واقعات اہلِ ایمان کو دین کی سربلندی، صبر اور وفاداری کا درس دیتے ہیں۔
جمعۃ الوداع کا پیغام دراصل یہ ہے کہ مسلمان اپنے اعمال کا جائزہ لے۔ اگر رمضان المبارک میں عبادت کی توفیق ملی تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر کوتاہی ہوئی تو سچے دل سے توبہ کرے اور آئندہ زندگی کو نیکیوں کے ساتھ گزارنے کا عہد کرے۔یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ رمضان المبارک کا اصل مقصد صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنا نہیں بلکہ تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی انسان کے اخلاق بہتر ہو جائیں، نماز کی پابندی پیدا ہوجائے، قرآن سے تعلق مضبوط ہو جائے اور دل میں اللہ کا خوف اور محبت بڑھ جائے تو یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے۔
آج جب رمضان المبارک ہم سے رخصت ہونے کے قریب ہے تو ہمیں چاہئے کہ اس کے آخری لمحات کو غفلت میں ضائع نہ کریں بلکہ زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا اور استغفار میں مشغول رہیں۔ اللہ رب العزت سے یہی دعا ہے کہ وہ ہمارے روزوں، نمازوں، تراویح، صدقات اور دیگر اعمالِ صالحہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین