بناچکے ہیں چمن زار ہر بیاباں کو
خزاں کے لب پہ نوید بہار ہو کہ نہ ہو
جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی
مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے صدر راج نافذ کیا تھا اور پھر وہاں اسمبلی انتخابات کا انعقاد بھی عمل میں آیا ۔ نیشنل کانفرنس نے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اورکانگریس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے حکومت بھی بنالی ہے ۔ جموں و کشمیر کی حکومت مسلسل مرکزی حکومت سے اصرار کر رہی ہے کہ حسب وعدہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے ۔ اس کیلئے نمائندگیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اب مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ حسب وعدہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کردیا جائیگا ۔ تاہم یہ اب بھی محض ایک وعدہ ہی ہے کیونکہ امیت شاہ نے اس کیلئے کسی وقت کا تعین کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ انہوں نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پرامن انعقاد کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مرکزی حکومت ریاستی درجہ بحال کرنے کے عہد کی پابند ہے تاہم انہوں نے اس وعدہ کی تکمیل کیلئے کسی وقت کا تعین کرنے سے گریز کیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ٹائم فریم طئے کرتے ہوئے اس کا اعلان کیا جائے ۔ جموں و کشمیر کے عوام کو ریاستی درجہ بحال کرتے ہوئے راحت پہونچائی جاسکتی ہے ان سے جو وعدہ کیا گیا تھا اس کی تکمیل کی جانی چاہئے ۔ ریاستی درجہ کی عدم بحالی کے نتیجہ میں کئی امور ایسے ہوتے ہیں جو وہاں کے عوام کے ووٹ سے منتخب کردہ حکومت انجام نہیں دے سکتی اور اس کیلئے لیفٹننٹ گورنر اور مرکزی حکومت کی منظوری کا انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ اس صورتحال میں مرکزی زیر انتظام علاقوں کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوسکتی ہے اور کی بہتری اور بھلائی کے کاموں کو انجام دینے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ اس کی کئی مثالیں ہمارے ملک ہی میں موجود ہیں۔ دہلی بھی مرکزی زیر انتظام علاقہ ہے اور اسے بھی مکمل ریاست کا درجہ حاصل نہیں ہے ۔ جس وقت دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت تھی تو سیاسی اختلافات کیو جہ سے کئی کاموں کی انجام دہی میں رکاوٹیں پیدا ہوا کرتی تھیں۔ اس مسئلہ پر احتجاج بھی کیا گیا تھا ۔ اب جبکہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کو شکست ہوگئی اور بی جے پی اقتدار پر واپس آگئی ہے تو وہاں اس طرح کے اختلافات دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ملک کی کچھ ریاستوں میں جہاںاپوزیشن جماعتوں کی حکومتیں ہیں اور مکمل اختیارات رکھنے کے باوجود گورنرس کی جانب سے سرکاری کام کاج میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال وفاقی طرز حکمرانی کی راہ میں اصل رکاوٹ دکھائی دے رہی ہے اور حکومتوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اب جبکہ مرکزی حکومت بارہا یہ ادعا کر رہی ہے کہ اس کے اقدامات کے نتیجہ میںجموںو کشمیر میں صورتحال میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور اسمبلی انتخابات کا بھی پرامن انداز میں انعقاد عمل میں آیا ہے وہاں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا ہے تو ایسے میں بہتر اور ضروری ہے کہ جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کردیا جائے ۔ عوام کے ووٹ سے جو حکومت منتخب ہوئے ہے اسے کام کرنے کا پورا موقع مل جائے اور وہ عوام کی بہتری اور فلاح و بہبود کے اقدامات کسی رکاوٹ کے بغیر انجام دے سکے ۔ یہی جمہوریت کا تقاضہ ہے ۔ سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل عوام سے کئی وعدے کرتی ہیں اور اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں ان وعدوں کی تکمیل پر توجہ دی جاتی ہے ۔ اگر کام کاج میں کسی طرح کی رکاوٹ نہ ہو تو حکومتوں کو اپنے وعدوں کی تکمیل میں سہولت ہوتی ہے اور اگر وہ وعدے پورے کرنے میں کامیاب نہ ہوں تو عوام ان سے سوال بھی کرسکتے ہیں۔ عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت کو کسی رکاوٹ کے بغیر کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے اور اس راہ میں جتنی بھی رکاوٹیں ہوں انہیں دور کیا جانا چاہئے ۔ یہ معاملہ چونکہ مرکزی حکومت کے ذمہ ہے اس لئے جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کو جتنا ممکن ہوسکے جلد بحال کیا جانا چاہئے ۔ صرف جمع خرچ کے ذریعہ کام چلانے کی کوششیں درست نہیں کہی جاسکتیں۔
ویسے تو مرکزی حکومت کی جانب سے ملک کے عوام سے بے شمار وعدے کئے گئے تھے اور انہیں فراموش کردیا گیا ۔ کچھ وعدوںکو محض انتخابی جملہ قرار دیتے ہوئے بھی بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایسے میں جموںو کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ بھی محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں ہونا چاہئے ۔ یہ ایک ریاست اور اس کے عوام کے مستقبل سے تعلق رکھنے والا وعدہ ہے ۔ اس وعدے کو پورا کیا جانا چاہئے ۔ ایک منصوبہ تیار کرتے ہوئے مرحلہ وارا نداز میں اقدامات کئے جانے چاہئیں اور مقررہ وقت کے اندر ریاستی درجہ کو بحال کیا جانا چاہئے ۔ مرکزی حکومت کو محض وعدہ پر اکتفاء کرنے کی بجائے اس وعدہ کو پورا کرنے کیلئے بھی عملی طور پر اقدامات شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔
میانمار ۔تھائی لینڈ زلزلہ ‘ امداد ضروری
میانمار اور تھائی لینڈ میں کل آیا انتہائی شدت کا زلزلہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے ۔ اب تک ایک ہزار افراد کی ہلاکت اور دو ہزار سے زائد زخمیوں کی توثیق ہوگئی ہے ۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جار ہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید کئی ہزار ہوسکتی ہے اور ملبہ کے نیچے سے نعشیں نکلنے کے بھی اندیشے ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو مشکل کے اس وقت میں میانمار اور تھائی لینڈ کی ممکنہ حد تک مدد کیلئے آنے آنا چاہئے ۔ جو تباہی اس زلزلہ کی وجہ سے ہوئی ہے وہ بہت زیادہ ہے اور ان دونوں ممالک کے عوام پر خوف و لرزہ طاری ہے ۔ ان میں اعتماد بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔انسانی جانوں کے اتلاف کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا تاہم جو مالی نقصان ہوا ہے اور جو لوگ زخمی ہیں ان کی مدد کی جاسکتی ہے ۔ ہندوستان بھی ان ممالک کی مدد کیلئے فوری طور پر اقدامات کر رہا ہے اور عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں فوری حرکت میں آنے اور امداد روانہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس طرح کی صورتحال کسی بھی ملک میں پیدا ہوسکتی ہے اور ایک دوسرے کی انسانی بنیادوں پر مدد ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔ جتنا جلد اور جتنی زیادہ ہوسکے مدد روانہ کرتے ہوئے متاثرہ عوام کو راحت پہونچائی جاسکتی ہے ۔