جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا ؟

   

Ferty9 Clinic

مہاراشٹرا میں کانگریس اور این سی پی کی مدد سے شیوسینا کی قیادت میں قائم ہوئی ادھو ٹھاکرے حکومت ایسا لگتا ہے کہ زوال کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ شیوسینا کے 30 ارکان اسمبلی نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکناتھ شنڈے ان کے لیڈر ہیں۔ اس طرح انہوں نے ادھو ٹھاکرے کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے ۔ یہ سیدھے طور پر ادھو ٹھاکرے کی قیادت کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ ملک کی کسی ریاست میں کسی چیف منسٹر یا پارٹی لیڈر کے خلاف ارکان اسمبلی نے بغاوت کی ہو۔ ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ تاہم گذشتہ آٹھ برسوں میں اس طرح کے انحراف کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے اور سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کسی ریاست میں بغاوت ہوئی ہے اور جس کسی لیڈر نے بغاوت کی ہے ان تمام کو پناہ صرف بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں میں ملی ہے اور کسی نہ کسی ہتھکنڈے کے ذریعہ بی جے پی نے ہی اس ریاست میں اقتدار حاصل کرلیا ہے ۔ اس کی مثالیں ہمارے سامنے کرناٹک سے لے کر مدھیہ پردیش تک موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دوسری ریاستوں میں بھی اس طرح کی کوششیں ہوئی ہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔ کرناٹک میں بی جے پی نے ہی جنتادل ایس اور کانگریس ارکان کو بغاوت پر اکسایا ۔ انہیں بی جے پی زیر اقتدار ریاست کو منتقل کیا ۔ وہاں انہیںہوٹلوں اور ریسارٹ میں قیام کروایا گیا ۔ ان سے من مانی دستاویزات پر اور بیانات پر دستخطیں حاصل کرلی گئیں اور حکومتوں کا تختہ الٹ دیا گیا ۔ خود بی جے پی نے چور دروازے سے اقتدار حاصل کرلیا حالانکہ عوام نے اسے اقتدار سونپا تھا ۔ مدھیہ پردیش میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا ۔ وہاں بھی کانگریس کے جیوتر آدتیہ سندھیا سے بغاوت کروائی گئی ۔ ارکان پارلیمنٹ کو دوسری ریاست کو منتقل کردیا گیا ۔ وہ بی جے پی اقتدار والی ریاست تھی ۔ یا پھر ایسی ہوٹلوں اور ریسارٹس کا انتخاب کیا گیا تھا جو بی جے پی قائدین کی تھیں۔ یہ سارے واقعات اتفاق یا حسن اتفاق نہیں ہوسکتے ۔ اس کے پس پردہ محرکات سے سارا ملک واقف ہوچکا ہے ۔
جن ریاستوں میں بی جے پی کی جانب سے اس طرح کی سازش نہیں رچی جاسکتی یا بی جے پی کو اس کا موقع نہیں ملتا وہاں بی جے پی اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قائدین کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں سے خوفزدہ کرتی ہے ۔ اس کی بھی مثالیں موجود ہیں۔ آندھرا پردیش سے لے کر مغربی بنگال تک اپوزیشن کے قائدین کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ۔ سی بی آئی اور ای ڈی سے انہیں خوفزدہ کیا گیا ۔ پھر یہ تمام بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔ ان مقدمات کا اب کوئی تذکرہ کہیں بھی سنائی نہیں دے رہا ہے ۔ ایسا لگتاہے کہ بی جے پی میں شمولیت کے ذریعہ ان تمام کے گناہ اور مقدمات ختم ہوگئے ہیں۔ یہ جو روش ملک میں شروع ہوئی ہے وہ ملک کی جمہوریت کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ جمہوریت کی اہمیت کو گھٹانے کا سبب بن سکتی ہے ۔ جس طرح سے عوام کے ووٹ کے بعد تشکیل پانے والی حکومتوں کو زوال کا شکار کیا جا رہا ہے اور عوامی تائید نہ رہتے ہوئے بھی حکومتیں بنائی جا رہی ہیں اس سے ملک کی جمہوریت کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جمہوریت پر سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔ جمہوریت کی اہمیت مشکوک کی جا رہی ہے ۔ یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ جس کسی امیدوار یا پارٹی کو ووٹ دیں ہوگا وہی جو دہلی میں برسر اقتدار افراد چاہیں گے ۔ عوام کے ووٹ مانگ کر اقتدار حاصل کرنے والے افراد ہی عوام کے ووٹ کی اہمیت کو گھٹانے والے کام کر رہے ہیں۔ جمہوریت کی وجہ سے اقتدار حاصل کرنے والے جمہوریت کو داغدار کر رہے ہیں۔
مہاراشٹرا میں شیوسینا کی حکومت بچتی یا زوال کا شکار ہوجاتی ہے اہمیت اس کی نہیں ہے ۔ حکومتیں بنتی ہیں اور ختم بھی ہوجاتی ہیں۔ لیکن اصل اور بنیادی سوال جمہوریت کے تحفظ کا ہے ۔ جمہوریت کے مستقبل کا ہے ۔ اگر عوام کے ووٹ سے اور عوام کی رائے سے اس طرح سے کھلواڑ کرنے کا سلسلہ اگر یونہی جاری رہتا ہے تو جمہوریت کا مستقبل خطرہ میں پڑ جائیگا ۔ اس کی افادیت ختم ہوجائے گی اور عوام کا اعتماد جمہوریت پر ختم ہوجائیگا ۔ یہ ملک کیلئے اچھی علامت نہیں ہے ۔ ہندوستان دنیا کی دوسری سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس اعزاز کا اور اس وقار کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ سبھی صحیح الفکر گوشوں کو اس کیلئے جدوجہد کرنی چاہئے ۔