جنوبی ریاستوں میں جگن موہن ریڈی کوروناسے محفوظ واحد چیف منسٹر

   

دیگر ریاستوںکے چیف منسٹرس کورونا کا شکار، انتخابی مہم سے دوری کے نتیجہ میں جگن کورونا سے بچ گئے
حیدرآباد: کورونا وائرس سے بچاؤ میں احتیاطی تدابیر اہمیت کی حامل ہے۔ عام شہری سے لے کر چیف منسٹر تک ہر کسی کو احتیاطی تدابیر کے ذریعہ کورونا پر قابو پانے کا ہنر سیکھ لینا چاہئے ۔ کورونا کی دوسری لہر میں جنوبی ریاستوں کے تقریباً تمام چیف منسٹرس کورونا وائرس سے متاثر ہوئے لیکن آندھراپردیش کے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے احتیاطی تدابیر کو ترجیح دی جس کے نتیجہ میں وہ دوسری لہر کے باوجود کورونا سے محفوظ ہیں۔ کورونا کی دوسری لہر میں جنوبی ریاستیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں اور تلنگانہ ، کرناٹک ، ٹاملناڈو اور کیرالا کے چیف منسٹرس کورونا سے متاثر ہوئے ۔ کورونا کی پہلی لہر میں شمالی ہند کی ریاستیں متاثر ہوئی تھیں لیکن دوسری لہر میں جنوری لہر کی ریاستوں میں متاثر دیکھی گئیں۔ کرناٹک میں کورونا کے سب سے زیادہ کیسیس درج ہوئے اور جنوبی ریاستوں کے مقابلہ کرناٹک کی صورتحال ابتر ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ مجالس مقامی کے انتخابات اور اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی چناؤ کے نتیجہ میں کیسیس کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ انتخابی مہم میں شرکت کرنے والے چیف منسٹرس کورونا کا شکار ہوئے۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے ناگرجنا ساگر اسمبلی حلقہ کی چناوی مہم میں حصہ لیا تھا جس کے بعد وہ کورونا پازیٹیو پائے گئے۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو پلانی سوامی ، چیف منسٹر کیرالا پی وجین اور چیف منسٹر کرناٹک بی ایس یدی یورپا نے انتخابی مہم سے متعلق جلسوں میں شرکت کی تھی۔ چیف منسٹر آندھراپردیش جگن موہن ریڈی نے تروپتی لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ کی انتخابی مہم سے خود کو دور رکھا ، وہ ایک جلسہ عام میں شرکت کرنے والے تھے لیکن لمحہ آخر میں کورونا کے پیش نظر منسوخ کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ جگن کے احتیاط کے نتیجہ میں وہ کورونا کا شکار ہونے سے بچ گئے ۔