حزب اللہ کے خلاف دھماکوں سے زمین لرزرہی ہے ، مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر
بیروت، 4 ستمبر (یو این آئی) جنوبی لبنان کے فروان میں دھماکوں سے زمین لرز رہی ہے جبکہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہنے کے باعث مقامی لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے ۔56 سالہ حسن سعید رمضان جنوبی لبنان کی اس بلدیاتی حدود میں اپنے گھر پر موجود تھے جب انہوں نے دھماکوں کی آواز سنی۔انہوں نے قریب واقع قنطارہ پہاڑیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، ”زمین زلزلے کی طرح لرز اٹھی اور پہاڑ کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔اسرائیلی فوج فروان کے بالکل جنوب میں موجود ہے اور جنوبی لبنان کے بڑے علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ لبنان کی تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے باقاعدگی سے فوجی کارروائیاں اور دھماکے کرتا ہے ۔اس ہفتے قنطارہ پہاڑی سلسلے کے ساتھ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم دو مقامات پر پہاڑوں کا ایک نمایاں حصہ منہدم ہوگیا۔ فروان، غندوریہ، برج قلاویہ اور قلاویہ جیسے اسرائیلی زیر کنٹرول لبنانی علاقوں کی سرحد سے متصل دیہات کے مقامی باشندوں اور حکام نے ‘الجزیرہ’ کو بتایا کہ جنگی آوازیں-جنگی طیاروں اور ڈرونز کی آوازیں، اور سب سے بڑھ کر اسرائیلی مسماری کے دھماکے -مسلسل سنائی دیتے ہیں اور اکثر رات بھر انہیں سونے نہیں دیتے ۔رمضان سے گفتگو کے دوران دور سے ایک اور دھماکے کی آواز سنائی دی، جو بظاہر اسرائیلی فوج کی جانب سے ایک مکان کو مسمار کرنے کا دھماکہ تھا۔ رمضان نے کہا، ”دن رات۔ ہم انہیں دیکھتے بھی ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ”اب یہ معمول بن چکا ہے ۔مارچ میں اسرائیل نے دو سال سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ لبنان پر حملہ کیا۔ اکتوبر 2024 میں ہونے والے پہلے حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے تقریباً مکمل انخلا کرلیا تھا، تاہم جنوبی لبنان میں پانچ مقامات پر فوجی اہلکار موجود رہے ۔ دوسری بار حملے کے بعد اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ان کی فوج جنوبی لبنان میں موجود رہے گی، حالانکہ امریکی حکام یہ یقین دہانی کرا چکے تھے کہ اسرائیل کو لبنان میں علاقائی عزائم نہیں ہیں۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے اطراف ان اہداف اور بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں وہ حزب اللہ سے متعلق قرار دیتی ہے ۔