تلنگانہ سے ادویات حاصل کرنے کی کوشش، ضعیف نکسلائٹس ٹیکہ لینے کیلئے قطاروں میں
حیدرآباد: کورونا کی دوسری لہر سے جنگلوں میں مقیم نکسلائٹس بھی پریشان ہیں۔ 100 سے زائد نکسلائٹس کورونا سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، انہیں مناسب ادویات دستیاب نہیں ہیں۔ کورونا سے مقابلہ کرنے میں نکسلائٹس ناکام ہورہے ہیں ۔ان حالت کے پیش نظر نکسلائٹس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے ۔ کورونا کا علاج ٹسٹ اور ٹیکہ لینے گاؤں والے بن کر پرائمری ہیلت سنٹرس اور سرکاری دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں ۔سب سے زیادہ چھتیس گڑھ کے جنگلات میں مقیم 100 سے زائد نکسلائٹس کورونا سے متاثر ہوئے، ان میں 10 کی موت بھی ہوگئی ۔ 26 اپریل کو نکسلائٹس نے بھارت بند کا اعلان کیا تھا ۔ اسی سلسلہ میں بیجا پور میں نکسلائٹس اور ان کے سینئر قائدین نے سینکڑوں کی تعداد میں ملاقات کی تھی اور عوامی عدالتوں کا اہتمام کیا جارہا تھا ۔ جس دوران کوریئرس (اطلاعات دینے والوں ) سے ان کی ملاقات ہوئی تھی ۔ ان سے کورونا پھیلنے پولیس کو شبہ ہے اور نکسلائٹس کی جانب سے اپنے کوریئرس مختلف اضلاع میں روانہ کر کے کورونا کی ادویات منگوائی جارہی ہیں اور نکسلائٹس میں شامل ضعیف افراد کو گاؤں والوں کے روپ میں پرائمری ہیلت سنٹرس اور گاؤں کے ہاسپٹل کو منتقل کرکے ٹسٹ کیا جارہا ہے ۔ ویکسین بھی دلوایا جارہا ہے ۔ نکسلائٹس کی ان سرگرمیوں پر پولیس نے سخت نگاہ رکھی ہے ۔ تلنگانہ و مہاراشٹرا میں لاک ڈاون سے نکسلائٹس کے کوریئرس اور ہمدردوں کو ادویات حاصل کرنے میں کافی دشواریاں پیش آرہے ہیں ۔ دنتے واڑہ ضلع ایس پی ابھیشک نے کہا کہ نکسلائٹس جنگلوں میں کورونا سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ نکسلائٹس کی جانب سے چھتیس گڑھ اور تلنگانہ کا رخ کرنے کی ہمیں بھی اطلاعات ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کی کوششیں کامیاب ن ہیں ہورہی ہیں۔ اگر کورونا سے متاثر نکسلائٹس اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کردیں تو انہیں بغیر کوئی نقصان پہنچائے بہتر سے بہتر علاج کیا جائے گا ۔