جنگ ، تنازعہ کا پائیدار حل نہیں

   

ایران کی جنگی و سفارتی حکمت عملی ، عالمی طاقت کے بدلتے توازن کی تشکیل جدید
ظلم پر مبنی جنگ ، انسانیت پر حملہ کے مترادف ۔ سنی ، شیعی مسئلہ نہیں

قرآن مجید کا یہ ایک ابدی اور جامع اُصول ہے کہ ’’کتنی ہی قلیل جماعتیں اﷲ تعالیٰ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آچکی ہیں ‘‘ (سورۂ بقرہ ۲۴۹)اور یہ قانونِ قدرت ہر دور میں حق و باطل کی کشمکش میں حقیقت بن کر اُبھرا ہے جس کی سب سے درخشاں مثال حضرت داؤد علیہ السلام کی طاقتور جالوت کے ساتھ معرکہ آرائی ہے ۔ جہاں ظاہری اسباب کے تمام پیمانے اُلٹ گئے اور تعداد ، طاقت ، اسلحہ کے مقابل میں ایمان ، صبر ، توکل اور حکمت کی نمایاں کامیابی ہوگئی ۔ حضرت طالوت کے لشکر میں سے اہل ایمان کی اکثریت دریا کے امتحان میں ناکام ہوئی اور پھر دشمن کی ہیبت دیکھ کر پسپا ہوگئی مگر ایک چھوٹی جماعت صبر و استقامت سے قائم رہی اور باطل کے مقابلہ میں ڈٹی رہی ۔ انہی میں سے ایک نوجوان حضرت داؤد علیہ السلام بھی تھے جو نہایت دلیری سے دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے قوی الجثہجالوت کو جو طاقت و قوت اور اسلحہ کی کثرت پر مغرور تھا ایک سادہ ہتھیار سے حملہ کیا اور شیطان الھیکل جالوت ایک ہی لمحہ میں ڈھیر ہوگیا ۔ بادشاہ کی موت سے باطل کا لشکر خوفزدہ ہوگیا اور ہزیمت و شکست سے دوچار ہوگیا ۔ جس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ نصرت و کامیابی کا معیار ظاہری وسائل اور اسلحہ کی کثرت نہیں بلکہ باطنی قوت ، تائید الٰہی اور مؤثر حکمت عملی ہے اور یہی اُصول ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی اُن لوگوں کے لئے ہے جو مادی اسباب سے استفادہ کرتے ہوئے روحانی قوت ، اخلاقی بلندی ، اجتماعی اتحاد ، کامیاب حکمت عملی اور صبر و استقامت سے دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔
یہی قرآنی اُصول غزہ اور ایران کے تناظر میں ایک جیتی جاگتی حقیقت کے طورپر سامنے آتا ہے جہاں ایک طرف بے پناہ عسکری طاقت ، جدید اسلحہ اور عالمی حمایت و تائید سے لیس قوتیں ہیں اور دوسری طرف کمزور مزاحمت اور عوام ہیں جو محاصرے ، بمباری ، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باوجود اپنے وجود ، وقار اور موقف پر قائم ہیں ۔ غزہ کی مظلوم عوام ملبے کے نیچے بھی اُمید کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ایران جو مسلسل دباؤ اور تصادم کے باوجود اپنی خودمختاری اور سیاسی موقف پر قائم ہے ۔ متذکرہ آیت قرآنی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ فتح و کامیابی کا معیار فوری طورپر نظر آنے والے عسکری نتائج نہیں بلکہ طویل مدتی استقامت، نظریاتی برتری اور اخلاقی قوت ہے اور یہی وہ عنصر ہے جو بظاہر کمزور نظر آنے والی جماعتوں کو تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیتیں دیتا ہے ۔ کیونکہ کمزور قوم تمام تر مشکلات کے باوجود صبر و استقامت سے کھڑی رہتی ہے تو یہ اس بات کا اعلان ہے ’’فئۃ قلیلۃ ‘‘ ( قلیل جماعت ) کا تصور ایک زندہ حقیقت ہے اور یہی وہ پیغام ہے جو ہر مظلوم کو حوصلہ دیتا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو اگر ایمان ، صبر ، اتحاد باقی ہو تو غلبہ بالآخر حق ہی کا ہوتا ہے ۔ نیز حضرت داؤد علیہ السلام کی طاقتور و قوی الھیکل جالوت کے مقابلہ میں کامیابی کوئی شخصی فتح نہیں تھی بلکہ ایک فطری اور روحانی انقلاب تھا جس نے بنی اسرائیل کو ایک نئی قیادت اور ایک نئی قوت عطا کی کہ یقین اور استقامت کے ساتھ حق سے وابستگی اور جدوجہد ہی میں کامیابی و سربلندی پنہا ہے ۔
بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی دوسری ریاست پر حملہ کرے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل ۲(۴) میں واضح طورپر درج ہے اور یہی اُصول عالمی امن اور استحکام کی اساس سمجھا جاتا ہے۔ تاہم عملی دنیا میں طاقتور ممالک اپنے مفادات کے مطابق اس کی تشریح کرکے استحصال کررہے ہیں یعنی امریکہ و اسرائیل کو اقوام متحدہ کے اُصول و قوانین کے مطابق ایران پر حملہ کا جواز نہیں تھا کیونکہ کسی ملک پر حملہ کرنے کے دو ہی اسباب ہیں (۱) اپنے ملک پر حملہ کی صورت میں یا اقوام متحدہ کی اجازت سے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران نے امریکہ و اسرائیل پر حملہ نہیں کیا تھا البتہ متوقعہ حملہ کا مفروضہ بناکر ایران پر حملہ کیا گیا نیز کسی ریاست پر مسلح حملہ کو واضح ثبوت کے بعد ہی حملہ کی اجازت ہوسکتی ہے وہ بھی محدود و مشروط ۔ امریکہ و اسرائیل نے نہ صرف غزہ و ایران میں انسانی حقوق کو پس پشت ڈالا ہے بلکہ ظلم و بربریت اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیاہے۔ اور آج ایسے میکانزم کی سخت ضرورت ہے جس کے مطابق وقت کے فرعون کو بھی احتساب کی کرسی پر بٹھایا جاسکے ۔
افسوس کا پہلو یہ ہے کہ امریکہ ، اسرائیل اور ایران میں مذاکرے جاری تھے اور اس میں کافی پیشرفت بھی ہوئی تھی اور دونوں فریق اتفاق کے قریب ہوچکے تھے ۔ اسی اثناء میں مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ استحصالی ذہنیت کی غماز ہے ۔ چالیس روز سے جاری جنگ میں ایران کا مزاحمت کرنا اور اپنی خودمختاری کو برقرار رکھنا ہی ایک زبردست کامیابی ہے ۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف جنگ میں برطانیہ ، کینیڈا اور دیگر یوروپی ممالک کا شریک نہ ہونا ایران کی عسکری طاقت ودبدبہ کا اثر بھی ہوسکتا ہے۔ بناء بریں ان ممالک نے دور رہنے ہی کو گوشۂ عافیت سمجھا ۔ اس پر مستزاد کہ چین اور رشیا جیسی متوازن قوتیں ایران کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی رہیں اور اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف قرارداد کو چین اور رشیا کا ویٹو کرنا مشرق وسطیٰ میں ایران کی مسلمہ حقیقت کا اظہار ہے اور یہ امریکہ کی بالادستی کے لئے چیلنج اور عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی آنے کی عکاسی کرتا ہے ۔
جنگ بندی کے لئے ایران کے ۱۰ نکاتی پلان پر بات چیت کیلئے اور مذاکرات ازسرنو آغاز کرنے کیلئے امریکہ کا آمادہ ہوجانا امریکہ کے پیش کردہ ۱۵ نکات کی خودبخود تردید کرتا ہے جس کے مطابق جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائیل پروگرام کو محدود کرنے یا ختم کرنے کا امریکی و اسرائیلی پلان موہوم ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ایران مستقبل جنگ بندی کے ساتھ تمام تر پابندیوں کے خاتمہ کا متقاضی ہے۔ اس سے اس کے ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔ ابنائے ہرمز جہاں سے دنیا کے تقریباً ۲۰ فیصد کی ترسیل ہوتی ہے تنازعہ کا حساس نقطہ بن گیا ہے۔ ایران نے اپنی جغرافیائی پوزیشن کا Leverage کے طورپر استعمال کرتے ہوئے اس کو سفارتی اور اقتصادی دباؤ پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جو اسے مذاکرات میں فائدہ دیتا ہے اور جنگ کے سبب ابنائے ہرمز ایران کی معاشی استحکام میں خاطر خواہ اضافہ کا سبب بن سکتا ہے ۔ الغرض اس جنگ میں کون جیتا کون ہارا ایک فضول بحث ہے کیونکہ جنگ کوئی بھی جیتے معصوم انسانیت ہی ہارتی ہے اور بے گناہ لوگ بلاوجہ موت کی نیند سوجاتے ہیں۔ اگر دنیا واقعی پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے طاقت کے بجائے انصاف ، قانون کی بالادستی اور سنجیدہ سفارتکاری کو اپنا رہنما ُصول بنانا ہوگا کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو انسانیت کو تباہی سے نکال کر استحکام اور عدل کی طرف لے جاسکتا ہے۔