جنگ کا ایک مہینہ ‘ صرف تباہی

   

چار سو قتل و حوادث ہیں ستم ظرفی ہے
پھر سے ممکن بھی ہے انساں کا انسان ہونا؟
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کا ایک ماہ پورا ہوگیا ہے ۔ یہ ایک ماہ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات سے کافی زیادہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ دونوں ہی جارحانہ طاقتوں کو یہ گمان تھا کہ ایران اس جنگ کو زیادہ دیر تک جھیل نہیں پائے گا اور امریکہ اور اسرائیل اپنے منصوبوںاور عزائم میں کامیاب ہوجائیں گے ۔ امریکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواہاں تھا اور چاہتا تھا کہ وہاں بھی اپنے کٹھ پتلی حکمرانوںکو مسلط کرتے ہوئے اپنے مقاصد کی تکمیل کی جائے ۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ اور جارحانہ عزائم کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کیا جائے ۔ اسرائیل نے اس جنگ کے تعلق سے امریکہ کو غلط باور کروایا تھا کہ بہت جلد مقاصد کو حاصل کرلیا جائے گا اور ایران دونوںممالک کے حملوں کی تاب نہیں لا پائے گا ۔ کسی نے بھی اس کے منفی اثرات پر غور کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی ۔ اس جنگ کے جو اثرات خود امریکہ اور اسرائیل پر مرتب ہونے لگے ہیںوہ ان دونوں ممالک کیلئے اور ساری دنیا کیلئے بھی غیر متوقع ہی کہے جاسکتے ہیں۔ ایران اس جنگ کو طوالت دینے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اب اس کے اثرات ساری دنیا پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ جس طرح ہر جنگ میں ہوتا ہے اس جنگ میں بھی صرف تباہی ہی ہاتھ آ رہی ہے اور اس جنگ کو جن مقاصد کیلئے امریکہ اور اسرائیل نے شروع کیا تھا وہ پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ جنگ کے جہاں مختلف پہلو رہے ہیں وہیں اس کا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل پہلو اس جنگ کے معاشی نقصانات کا ہے ۔ اس جنگ میں ساری دنیا میں معاشی انحطاط کی کیفیت پیدا ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ دنیا بھر میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں عام آدمی متاثر ہو رہا ہے ۔ جس وقت سے جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت سے دنیا بھر میں اتھل پتھل مچی ہوئی ہے ۔ خود امریکہ میں اسٹاک مارکٹس پر جو منفی اثرات ہوئے ہیں ان کے نتیجہ میں تاحال پانچ ٹریلین ڈالرس کا سرمایہ کاروں کو نقصان ہوچکا ہے ۔ اسی طرح تیل کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوگیا ہے ۔ چند ہی ممالک ایسے ہونگے جو اس جنگ کے اثرات سے تاحال محفوظ رہ پائے ہوں۔
بات صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے ۔ دنیا کے کئی ایسے ممالک ہیں جو معاشی نقصانات سے دوچار ہو رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ اور توسیع پسندانہ عزائم کا یہ سلسلہ ایسا لگتا ہے کہ مزید دراز ہوجائے گا ۔ امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جنگ چند مہینے نہیں بلکہ چند ہفتے مزید چل سکتی ہے ۔ تاہم دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وانس نے وزیر اعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو سے فون پر بات کرتے ہوئے امریکہ کو خاص طور پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو اس جنگ کے تعلق سے گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور ان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے جنگ کے تعلق سے جو امکانات ظاہر کئے تھے وہ قطعی پورے نہیں ہوئے ہیں۔ اس طرح یہ اشارے بہت واضح ہونے لگے ہیں کہ یہ جنگ مزید کچھ ہفتے چل سکتی ہے ۔ یہ بھی امریکی قیاس ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ جنگ اس سے بھی زیادہ وقت تک طوالت اختیار کرجائے ۔ صرف ابتدائی ایک ماہ میں ہی جو نقصانات ہوئے ہیں وہ ناقابل بیان کہے جاسکتے ہیں۔ ساری دنیا میں اسٹاک مارکٹس میں گراوٹ درج کی گئی ہے اور اس کے نتیجہ میں سرمایہ کار اپنے لاکھوں کروڑ روپئے سے محروم ہوگئے ہیں۔ گیس کی قلت دنیا کے کئی ممالک میں پیدا ہوگئی ہے ۔ گیس کی قلت کے نتیجہ میں کمرشیل اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے ۔ یہ اضافہ بتدریج عوام پر بھی منتقل کیا جائے گا ۔ معیشتوں پر منفی اثرات کے نتیجہ میں روزتگار متاثر ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ مینو فیکچرنگ کا شعبہ بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کا امکان نہیں ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اس جنگ کے اثرات مرتب ہونے کے اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہیں۔
بحیثیت مجموعی گذشتہ ایک مہینے کی جنگ نے ساری دنیا کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ مزید چند ہفتے اگر جنگ جاری رہتی ہے تو حالات سبھی کے قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔ اس جنگ کے ابھی تک کے ہی جو اثرات ہیں ان کو بہتر بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا ۔ جنگ جتنی زیادہ طویل ہوگی نقصانات اتنے ہی زیادہ ہونگے اور اس کے نتیجہ میں جنگ کے نقصانات کی پابجائی کا عمل بھی اتنا ہی مشکل اور طویل ہوجائیگا ۔ اسرائیل اور امریکہ کی حماقتکی قیمت ساری دنیا چکانے پر مجبور ہو رہی ہے ۔ ایسے میں دنیا کے تمام صحیح الفکر ممالک کو آگے آتے ہوئے امریکہ پر اثر انداز ہونا چاہئے تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جاسکے ۔
تعلیمی اداروں میں بیمار ذہنیت
جس وقت سے مرکز میں نریندر مودی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے اس وقت سے ملک کے تعلیمی شعبہ کو زہر آلود کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے گئے ۔ ایک مخصوص سوچ کو مسلط کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ جس طرح سے ملک کی سیاست کو زہر آلود کردیا گیا ہے اسی طرح سے تعلیم کے شعبہ کو بھی متاثر کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ تعلیمی شعبہ جات میں بھی بیمار ذہنیت کے حامل عناصر اپنے حقیقی رنگ دکھانے لگے ہیں۔ بنگلورو کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے کلاس روم میں جس طرح سے ایک مسلم طالب علم کو دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی اور اس کو نشانہ بنایا وہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کا شعبہ بھی زہر آلود ہوگیا ہے اور یہاں بھی فرقہ پرستی کا زہر بتدریج سرائیت کرگیا ہے ۔ کئی گوشے ایسے بھی ہیں جو اس طرح کے واقعات اور ریمارکس کی مدافعت کرنے لگے ہیں اور اس کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ یہ بھی بیمار ذہنیت کی علامت ہے اور اس کے نتیجہ میں سماج کی جو پراگندہ صورتحال ہوگئی ہے اس کی عکاسی ہوتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ فرقہ پرستی کے زہر کو مزید گہرا ہونے سے روکا جائے ۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ اگر اس زہر کو مزید پھیلنے سے روکا نہیں گیا تو یہ سماج کے مزید شعبوں میں سرائیت کر سکتا ہے اور اس پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا ۔