چار پستول ، 18 کارتوس اُترپردیش سے کرنول منتقلی کے دوران ضلع عادل آباد میں ضبط
عادل آباد ۔23 نومبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست اُترپردیش کے وارانسی سے چار عدد پستول و دیگر اشیاء لیکر آندھراپردیش کے ضلع کرنول منتقل ہونے والے انتہاپسندوں کو عادل آباد پولیس نے حراست میں لیکر عادل آباد کا نام روشن کیا ، ان خیالات کا اظہار عادل آباد ضلع ایس پی مسٹر غوث عالم نے مستقر عادل آباد کے پولیس ہیڈکوارٹر کانفرنس ہال میں میڈیا سے مخاطب ہوکر کیا اوراس آپریشن کو بڑی کامیابی بتاتے ہوئے اس میں حصہ لینے والے پولیس عہدیداروں اور اہلکاروں کی خدمات کی بھرپور ستائش کی ۔ مسٹر غوث عالم نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ ضلع کرنول کی ممنوعہ ’’جن شکتی دلم ‘‘ کو مزید مستحکم کرنے وی وینکٹ ریڈی نے این پرسنا راجو جوکہ ضلع نلگنڈہ کا بتایا گیا رقم حاصل کرتے ہوئے اُترپردیش کے مرنگر ریلوے اسٹیشن سے 7.65mm چار عدد پستول 18 عدد گولیاں و دیگر اشیاء کے ساتھ براہ عادل آباد کرنول روانہ ہورہا تھا ۔ پولیس کو ملنے والی اطلاع پر چاندہ بالی کے پاس قومی شاہراہ پر سواریوں کی تلاشی کا کام شروع کیا گیا جس میں جن شکتی دلم سے وابستہ افراد ممنوعہ اشیاء کے ساتھ پولیس کے ہاتھ لگے ۔ وی وینکٹ ریڈی ، ایم دلیپ ، ہیماکانت ریڈی جن کا تعلق نندیال ضلع سے ہے اور این پرسنا راجو ضلع نلگنڈہ کا بتایا گیا ہے کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان کے قبضہ سے 4 عدد پستول ، 18 عدد گولیاں ، 8 میگزن ، چھ عدد سل فون اور ایک عدد کار کو پولیس نے ضبط کرلیا ۔ عادل آباد ایس پی مسٹر غوث عالم نے ضلع نلگنڈہ ، نندیال ضلع ایس پی سے فون پر بات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث وینکٹ ریڈی مختلف مقدمات میں ملوث ہے ۔ مزید افراد کی گرفتاری کی خاطر عادل آباد پولیس کو متحرک کردیا گیا ہے۔ اس پریس کانفرنس کے موقع پر ایڈیشنل ایس پی مسٹر بی سریندر، ڈی ایس پی مسٹر ایل جیون ریڈی ، سرکل انسپکٹرز مسٹر کے جتیندر ، کروناکر ، ڈی سائی ناتھ ، سب انسپکٹر مسٹر مجاہد بھی موجود تھے ۔