سیکولر اور اقلیتی ووٹ تقسیم کرنے کی سازش، اسد اویسی پر ریونت ریڈی کا الزام
حیدرآباد ۔30۔اکتوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کو اقتدار سے روکنے کیلئے مجلس اور بی آر ایس بی جے پی کے ساتھ مل کر سازش کر رہے ہیں۔ کانگریس کے خلاف مجلس کے صدر اسد اویسی کی مہم کی مذمت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ اسد اویسی نریندر مودی کیلئے بنڈی سنجے اور کشن ریڈی سے زیادہ وفاداری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اسد اویسی چاہتے ہیں کہ نریندر مودی کی تیسری مرتبہ کامیابی سے مرکز میں کے سی آر کا موقف بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ جنتا دل سیکولر اور مجلس نے سیکولر اور اقلیتوں کے ووٹ منقسم کرنے کی سازش کی ہے اور دونوں پارٹیوں نے کرناٹک اور تلنگانہ میں بی جے پی سے معاہدہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن سے قبل جنتادل سیکولر این ڈی اے میں شامل ہوجائے گی۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ مجلس اور جنتا دل سیکولر کی سازش کے باوجود 80 فیصد اقلیتیں کانگریس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں کانگریس کے حق میں نتائج سے بی جے پی اور مجلس خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد لوک سبھا کی 16 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور اسد اویسی کو مرکز میں بی جے پی کے زوال کا خوف ستا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے پرانے شہر میں میٹرو پراجکٹ کی منظوری دی تھی ۔ گولیگوڑہ تا فلک نما اور فلک نما تا ایرپورٹ میٹرو ٹرین پراجکٹ کو منظوری دی گئی لیکن بی آر ایس حکومت نے عمل آوری نہیں کی ۔ ریونت ریڈی نے اسد اویسی سے سوال کیا کہ اگر بی آر ایس کی کار کا اسٹیرنگ ان کے ہاتھ میں ہے تو پھر میٹرو ٹرین پراجکٹ پر عمل آوری کے بارے میں خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اقلیتیں آج بھی ڈبل بیڈروم مکانات سے محروم ہیں۔ 12 فیصد تحفظات اور ڈبل بیڈروم مکانات میں 12 فیصد حصہ داری پر مجلس خاموش ہے۔ مسلمانوں کو 120 مکانات بھی الاٹ نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جوبلی ہلز کا ٹکٹ کانگریس کی جانب سے اقلیتی قائد کو دیئے جانے پر مجلس ناراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس کی ایماء پر کانگریس میناریٹیز ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین نے استعفیٰ دیا۔ انہوں نے اسد اویسی سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر کے سی آر سے سوال کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک سنٹر کی تعمیر اور وقف بورڈ کو جوڈیشل پاور آج تک نہیں دیئے گئے ۔