جوپلی کرشنا راؤ اور بی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت

,

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی میں ملکارجن کھرگے نے استقبال کیا، کے سی وینو گوپال، ریونت ریڈی اور مانک راؤ ٹھاکرے کی شرکت

حیدرآباد۔/3اگسٹ، ( سیاست نیوز) سابق وزیر جوپلی کرشنا راؤ کے علاوہ متحدہ محبوب نگر ضلع کے کئی سینئر بی آر ایس قائدین اور مقامی عوامی نمائندوں نے آج کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ نئی دہلی میں صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کی موجودگی میں ان قائدین نے کانگریس پارٹی کا کھنڈوا پہن کر بی آر ایس سے سیاسی وفاداری کو کانگریس کی طرف تبدیل کرلیا۔ جوپلی کرشنا راؤ کی کانگریس میں شمولیت تقریباً ایک ماہ سے کسی نہ کسی وجہ کے سبب ملتوی ہوتی رہی۔ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی 30 جولائی کو کولا پور میں جلسہ عام سے خطاب کرنے والی تھیں لیکن بارش کے سبب جلسہ عام کو ملتوی کردیا گیا۔ مزید تاخیر کے بجائے کانگریس ہائی کمان نے جوپلی کرشنا راؤ اور دیگر قائدین کی نئی دہلی میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے کی قیامگاہ پر منعقدہ اس تقریب میں جنرل سکریٹری اے آئی سی سی کے سی وینو گوپال، جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی، سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی، سکریٹری اے آئی سی سی سمپت کمار اور پردیش کانگریس کے دیگر قائدین موجود تھے۔ جوپلی کرشنا راؤ کے علاوہ ناگر کرنول سے رکن کونسل کے دامودر ریڈی کے فرزند راجیش ریڈی، کوڑنگل کے سابق رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی، کوڑنگل میونسپل چیرمین جگدیشور ریڈی، کوڑنگل ایم پی ٹی ایم دیشمکھ ، اے کشٹپا، نارائن ریڈی، ونپرتی اسمبلی حلقہ کے ایم پی ٹی میگھا ریڈی، کے ریڈی، وردھنا پیٹ اسمبلی حلقہ کے ریٹائرڈ ایڈیشنل ایس پی ناگراجو، ایڈوکیٹ شرد کمار اور دوسروں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر اے آئی سی سی جنرل سکریٹری مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ عنقریب محبوب نگر میں پرینکا گاندھی کے جلسہ عام کی تاریخ طئے کی جائے گی۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے امید ظاہر کی کہ محبوب نگر میں کانگریس پارٹی مستحکم ہوگی۔ انہوں نے پارٹی قائدین کو مشورہ دیا کہ متحدہ طور پر اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی کی جدوجہد کریں۔ جوپلی کرشنا راؤ اور دیگر قائدین گذشتہ دو دن سے نئی دہلی میں قیام کئے ہوئے ہیں۔ شمولیت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی حکمرانی عوام کیلئے مشکلات کا سبب بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت میں بدعنوانیاں اور ڈکٹیٹر شپ عام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو اقتدار سے بیدخل کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ جس طرح کرناٹک میں کرپشن کے سبب بی جے پی اقتدار سے محروم ہوگئی اسی طرح تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کا حشر ہوگا۔