جوہر ٹرسٹ کے کئی مقامات پر ای ڈی چھاپے

   

رامپور، 19 اگست (ایجنسیز) اتر پردیش کے رامپور میں اعظم خان سے جڑے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک بار پھر ای ڈی کی کارروائی کے باعث خبروں میں ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق جاری تحقیقات کے تحت چہارشنبہ کو رامپور، سہارنپور اور دہلی میں 10 مقامات پر بیک وقت تلاشی لی۔ ای ڈی کے لکھنؤ زونل آفس کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ 2002 کی دفعہ 17 کے تحت کی گئی۔ ایجنسی کی توجہ سرکاری معاہدوں سے حاصل ہونے والی رقوم کے مبینہ لین دین، نجی ٹھیکیداروں کی جانب سے دیے گئے عطیات اور ان رقوم کے ٹرسٹ یا یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں ممکنہ استعمال پر مرکوز ہے۔ ای ڈی کی تحقیقات میں مبینہ طور پر جوہر ٹرسٹ اور بعض نجی ٹھیکیداروں کے درمیان مالی لین دین کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایجنسی اس پہلو کی جانچ کر رہی ہے کہ سرکاری منصوبوں کے ٹھیکے حاصل کرنے والے افراد نے ٹرسٹ کو کس نوعیت کی رقوم فراہم کیں اور آیا ان کا کوئی حصہ محمد علی جوہر یونیورسٹی میں تعمیراتی کام یا دیگر سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوا۔ تلاشی کے دوران ای ڈی کی ٹیموں نے مالیاتی دستاویزات، لین دین سے متعلق ریکارڈ اور ڈیجیٹل آلات کی جانچ کی۔
ایجنسی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مبینہ رقوم کس راستے سے ٹرسٹ یا یونیورسٹی تک پہنچیں اور ان مالی معاملات سے کن افراد کو فائدہ حاصل ہوا۔ ای ڈی کی چھاپہ ماری کے بعد سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں الزام لگایا کہ جو لوگ تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کے مخالف ہیں اور اسکول بند کرانے کی بات کرتے ہیں، وہ یونیورسٹی قائم کرنے والوں کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کرا رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی بی جے پی کے ان حامیوں کو مطمئن کرنے کی کوشش ہے جو مبینہ طور پر فرقہ وارانہ اور تنگ نظری پر مبنی سیاست کرتے ہیں۔ تاہم، یہ ان کا سیاسی الزام ہے، جبکہ ای ڈی کی جانب سے کارروائی کی بنیاد مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات کو بتایا گیا ہے۔