ہندوستان بھر میںپٹرولیم اشیا کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ملک بھر کے عوام ان قیمتوں کی وجہ سے پریشانیوںاور مشکلات کا شکار ہیں۔ پٹرولیم قیمتوںمیںبجائے خود اضافہ اپنی جگہ اور اس کے نتیجہ میںدوسری اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔جیسے جیسے فیول مہنگا ہوتا ہے ٹرانسپورٹ اخراجات میںاضافہ کے نتیجہ میں دوسری اشیا بھی مہینگی ہوتی ہیں۔ جس وقت سے مرکز میںنریندرمودی حکومت برسر اقتدار آئی ہے پٹرولیم اشیا کی قیمتوںمیںمسلسل اضافہ ہوتا گیا ہے اور یہ تقریبا دوگنی تک پہونچ گئی تھیں۔ بعد میں عوام میںمسلسل ناراضگی اور اپوزیشن کی تنقیدوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اپنے محاصل میںمعمولی سی کمی کرتے ہوئے عوام کو راحت دینے کی کوشش کی تھی جو ناکافی تھی ۔ یہ حقیقت میں راحت نہیں بلکہ محض دکھاوا تھا ۔ مرکز کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے کچھ ریاستی حکومتوں نے بھی اپنے طور پر ریاستوںکے ویاٹ وغیرہ میںکٹوتی کی تھی ۔ تاہم کسی بھی ریاست یا مرکزی حکومت کی جانب سے عوام کو خاطر خواہ راحت نہیںپہونچائی گئی ہے اور عوام آج بھی مہنگائی کی مارسہنے پر مجبور ہیں۔ مرکزی حکومت نے تو بین الاقوامی مارکٹ میں قیمتوں میںکمی کے باوجود محاصل میںاضافہ کرتے ہوئے اپنے خزانہ کو بھرنے پر ہی توجہ دی تھی ۔ اب تاہم جھارکھنڈ میں حکومت کی جانب سے عوام کو حقیقی معنوں میںراحت دی جا رہی ہے اور یہ اعلان کردیا گیا ہے کہ 26 جنوری سے پٹرولیم کی قیمتوںمیںدو پہئیہ گاڑیوںکیلئے فی لیٹر 25 روپئے کی راحت دی جائے گی ۔ پٹرول قیمتوں میںفی لیٹر 25 روپئے کم کردئے جائیں گے ۔ اس طرح ریاست نے اپنے ٹیکس اور محاصل کی آمدنی کو کم کرنے سے اتفاق کیا ہے تاکہ عوام کو راحت مل سکے ۔ چیف منسٹر ہیمنت سورین نے ریاست میں اپنی حکومت کے دو سال کی تکمیل پر یہ اعلان کیا اور ایک طرح سے دو سالہ اقتدار کا عوام کو تحفہ دیا ہے ۔ دوسری جانب مرکزی حکومت گذشتہ سات برسوں سے عوام پر مسلسل بوجھ عائد کرتی جا رہی ہے ۔ نت نئے محاصل اور ٹیکس عائد کرتے ہوئے عوام پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور کسی طرح کی راحت نہیںپہونچائی جا رہی ہے ۔ جھارکھنڈ نے اس معاملے میںایک مثال قائم کردی ہے ۔
جہاں تک پٹرولیم قیمتوں کا مسئلہ ہے ملک کی ہر ریاست میں یہ حد درجہ بڑھ گئی ہے ۔ سب سے پہلے تو مرکزی حکومت اس پر مسلسل ٹیکس یا اکسائز ڈیوٹی میںاضافہ کرتی جا رہی ہے ۔ اس کے بعد ریاستی حکومتوں کی جانب سے اپنی سطح پر ویاٹ اور دوسرے ٹیکس عائدکرتے ہوئے عوام پر مسلسل بوجھ ڈالا جا رہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میںاشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ جھارکھنڈ نے اب جو مثال قائم کی ہے وہ حقیقی معنوںمیںایک عوام دوست اقدام ہے ۔ اس کے نتیجہ میںدو پہئیہ گاڑی والوںکوراحت ملے گی ۔ جن افراد کے پاس کاریں ہیں ان کیلئے حالانکہ کوئی راحت نہیں ہے لیکن وہ لوگ اضافی قیمتیں برداشت کرسکتے ہیں۔ دو پہئیہ گاڑیاں آج غریب عوام تک محدود ہیں۔ یہ عوامی حمل و نقل کا بہترین اورسستا ذریعہ ہیں۔ اس کے ذریعہ غریب عوام کو راحت مل سکتی ہے ۔ عوام پر جو بوجھ گذشتہ سات برسوںمیںمسلسل عائد کردیا گیا تھا اس کو بڑی حد تک کم کرنے میںبھی مدد مل سکتی ہے ۔ کچھ گوشوںسے پٹرولیم اشیا کو بھی جی ایسٹی کے دائرہ میںلانے کی مانگ ہو رہی ہے تاکہ ان پر محاصل مقررہ حد سے آگے نہ بڑھنے پائیں لیکن حکومتیں اپنے خزانے بھرنے کیلئے ایسا کرنے تیار نہیںہیں اور وہ نت نئے ناموںسے پٹرولیم اشیا پر محاصل عائد کرتی جار ہی ہیں اور انہیں عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کی کوئی پرواہ نہیںرہ گئی ہے ۔ وہ صرف اپنے خزانے بھرنے پر توجہ کر رہے ہیں۔ ایسی حکومتوں کیلئے جھارکھنڈ کے چیف منسٹر ہیمنت سورین نے ایک بہترین مثال قائم کر دکھائی ہے ۔
جھارکھنڈ کو ملک کی پسماندہ ترین ریاستوںمیںشمار کیا جاتا ہے ۔ وہاںغریب عوام کی اکثریت ہے ۔ اس کے باوجود حکومت نے عوام کی بہتری کیلئے اپنی آمدنی کو کم کرنے سے اتفاق کرلیا ہے اور عوام کو راحت پہونچائی ہے ۔ جن ریاستوں میں بڑی صنعتیں اور کمپنیاں قائم ہیں۔ جن کا بجٹ لاکھوں کروڑ کا ہے اور وہ اپنی ترقی کی مثالیں دیا کرتی ہیںانہیں جھارکھنڈ جیسی غریب ریاست سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کوراحت پہونچائی جاسکے اور پٹرولیم اشیا پر جو من مانی اور نت نئے ٹیکس اور محاصل عائد کئے جا رہے ہیں ان کو کم کیا جاسکے ۔ دوسری ریاستوں کو بھی جھارکھنڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کو راحت پہونچانے آگے آنا چاہئے ۔
