رائے پور : چیف منسٹر چھتیس گڑھ بھوپیش بگھیل نے منگل کو جھارکھنڈ کے یوپی اے ارکان اسمبلی سے رائے پور کے ایک ریزاٹ میں ملاقات کی جہاں وہ رانچی سے پہونچے ہیں۔ جھارکھنڈ کے برسر اقتدار مخلوط نے اپنے ایم ایل ایز کو چھتیس گڑھ کو منتقل کردیا تاکہ بی جے پی کی ممکنہ کوشش کو ناکام بنایا جاسکے جو ریاست میں جاری سیاسی بحران کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے برسر اقتدار ایم ایل ایز کو توڑنے کیلئے کی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن نے چیف منسٹر جھارکھنڈ ہیمنت سورین کو مبینہ طور پر نااہل قرار دیتے ہوئے سفارشی مکتوب بھیجا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی گورنر اِس بنیاد پر اگر چیف منسٹر سورین کو نااہل قرار دیتے ہوئے عہدہ چھوڑنے کی ہدایت دیتے ہیں تو موجودہ حکومت گرجائے گی کیوں کہ سورین کے ساتھ اُن کی مجلس وزراء کو بھی مستعفی ہونا پڑے گا۔ چیف منسٹر سورین نے کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ اگر اُن کی حکومت گرتی ہے تو وہ ضمنی چناؤ میں دوبارہ منتخب ہوکر اقتدار پر واپس ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کی سفارش کی اطلاعات کے درمیان ریاستی دارالحکومت رانچی میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن بی جے پی یکایک سرگرم ہوگئی جس کے ساتھ یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ بعض دیگر ریاستوں کی طرح جھارکھنڈ میں بھی ایم ایل ایز کی جوڑ توڑ ہوسکتی ہے۔ اِسی اندیشے کے تحت یو پی اے اتحاد کی سورین زیرقیادت حکومت نے اپنے ایم ایل ایز کو چھتیس گڑھ منتقل کردینا مناسب سمجھا جہاں بگھیل کی قیادت میں کانگریس کی حکمرانی ہے۔ جھارکھنڈ کے 11 وزراء بشمول چیف منسٹر سورین اور 8 ایم ایل ایز رانچی میں ہی ہیں۔ صرف 49 کے منجملہ 31 ایم ایل ایز رائے پور گئے ہیں۔ سورین نے میڈیا کی جانب سے سوالات پر کہاکہ وہ مناسب موقع پر اپنے منصوبہ کا اظہار کریں گے۔