عتیق کے بیٹے کے انکاونٹرکے بعد صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادوکا رد عمل
لکھنؤ: اومیش پال قتل کیس کے ملزم عتیق احمد کے مفرور بیٹے اسد احمد کو یوپی ایس ٹی ایف نے جھانسی میں ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کر دیا ہے۔ اسد کے علاوہ شوٹر غلام محمد بھی ایس ٹی ایف کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس انکاؤنٹر پر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے فرضی قرار دیا ہے۔ اکھلیش یادو نے ٹوئٹ کیا ’’بی جے پی حکومت جھوٹے انکاؤنٹر کر کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی والے عدالت پر یقین نہیں رکھتے۔ آج کے اور حالیہ انکاؤنٹرز کی مکمل جانچ ہونی چاہیے اور مجرموں کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنے کا حق حکومت کو نہیں ہوتا، بی جے پی بھائی چارے کے خلاف ہے۔‘‘وہیں، یوپی ایس ٹی ایف کے اس انکاؤنٹر پر اے ڈی جی لاء اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم نے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت ایسے مافیا اور خوفناک مجرموں کے خلاف مہم شروع کی ہے، جس کے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ 24 فروری کو پریاگ راج کے گھومن گنج تھانہ علاقے میں ایک اور واقعہ پیش آیا تھا، جس میں ایک اہم گواہ اومیش پال کا قتل ہوا، جس میں ہمارے دو بہادر ساتھی جو اس گواہ کی حفاظت پر مامور تھے، شہید ہو گئے تھے۔‘‘اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ اس وقت سے اتر پردیش پولیس نے ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور وقتاً فوقتاً کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ اس واقعے کے سلسلے میں جن پانچ افراد کی شناخت کی گئی تھی ان پر پانچ پانچ لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ ان میں ارمان، اسد، گڈو اور صابر شامل تھے۔ وہیں، چیف منسٹر اتر پردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے اس انکاؤنٹر کے بعد لاء اینڈ آرڈر کے حوالے سے میٹنگ طلب کی۔ یوگی نے یوپی ایس ٹی ایف کے علاوہ ڈی جی پی، اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر اور پوری ٹیم کی تعریف کی۔