پارٹی صدر جے پی نڈا نے کھنڈوا پہنا کر خیرمقدم کیا
نئی دہلی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری جیوتیرادتیہ سندھیا نے آج بدھ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے کانگریس کی بنیادی رکنیت سے کل استعفیٰ دے دیا تھا۔مسٹر سندھیا نے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں ۔ بی جے پی صدر جے پی نڈا ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، پٹرولیم کے وزیر دھرمیندر پردھان ، پارٹی کے نائب صدر اور متعدد سینئر رہنماوں کی موجود گی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔ مسٹر سندھیا گذشتہ 18 برسوں سے کانگریس سے وابستہ تھے ۔ وہ مرکزی وزیر بھی رہے ۔ حالیہ دنوں میں وہ پارٹی سے ناراض چل رہے تھے ۔ اس موقع پر مسٹر نڈا نے کہا کہ بھارتیہ جن سنگھ اور بی جے پی کے قیام میں راجماتا وجئے راجے سندھیا نے بہت اہم کردار رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راجماتا ہماری مثالی اور ویژنری شخصیت رہی ہیں۔ ان کے پوتا کے پارٹی میں شامل ہونے پر وہ بہت خوش ہیں اور اسے سلام کرتے ہیں۔ مسٹر نڈا نے کہا کہ مسٹر سندھیا کاپارٹی میں شامل ہونا خاندان میں شامل ہونے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممتاز رہنما مسٹر سندھیا کو مرکزی دھارے میں پارٹی میں کام کرنے کا موقع ملے گا۔مسٹر سندھیا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور مسٹر نڈا نے انہیں اپنے کنبے میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان قائدین کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کر وہ بی جے پی کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد سیاست کے ذریعے عوامی خدمت کرنا ہے ۔ کانگریس کے ذریعہ ، انہوں نے 18 سال تک پوری لگن کے ساتھ ملک اور ریاست کی خدمت کی۔ لیکن اب وہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کانگریس کے ذریعہ عوامی خدمت نہیں کرپارہے ہیں۔ مسٹر سندھیا نے کہا کہ موجودہ کانگریس کی حیثیت پہلے جیسی نہیں رہی ۔ کانگریس حقیقت سے انکار کرتی ہے ۔ نئی قیادت کو صحیح پہچان نہیں مل رہی ہے ، مدھیہ پردیش میں صورتحال وہی ہے ۔
کانگریس اب وہ پارٹی نہیں جو پہلے تھی:سندھیا
نئی دہلی 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد کانگریس کے سابق جنرل سکریٹری جیوتیرادتیہ سندھیا نے آج کہا کہ مدھیہ پردیش میں ، کانگریس نے بہت سے خواب سجا کر 2018 میں حکومت بنائی تھی لیکن ڈیڑھ سال میں وہ سارے خواب بکھر کر رہ گئے ۔انہوں نے کہا کہ جن زرعی قرضوں کومدھیہ پردیش کی کانگریسی حکومت نے اقتدار میں آنے کے ایک ہفتہ کے اندر معاف کردینا تھا ، اس عہد کی اٹھارہ ماہ گزرنے کے بعد بھی تکمیل نہیں کی گئی۔مسٹر سندھیا نے کہا کہ دوسری طرف وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں میں، جنہیں دو بار مینڈیٹ ملا، ہندوستان کا مستقبل محفوظ معلوم ہوتا ہے ۔ مسٹرسندھیا نے کہا کہ جن چند دنوں نے اس کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے ان میں ایک وہ ایام تھے جب ان کے والد گزرے تھے اور دوسرا دن کل کا تھا جب انہوں نے “اپنی زندگی کے لئے ایک نئی راہ” کا انتخاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘کانگریس اب وہ پارٹی نہیں رہی جو پہلے تھی’’۔سندیا نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت کے ان کے جذبے کی تکمیل کانگریس پارٹی میں اب ممکن نہیں رہ گئی تھی۔
