جی آر ای امتحان ‘ ہندوستانی طلبا نے امریکی طلبا کو پیچھے چھوڑ دیا

   

حیدرآباد۔16فروری(سیاست نیوز) گریجویٹ ریکارڈ ایگزامنیشن GRE امتحان میں شریک ہونے والے ہندوستانی طلبا کی تعداد نے امریکی طلبا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ اس طرح ہندوستان سب سے بڑی GRE ٹسٹ منعقد کرنے والی مارکٹ بن گیا ہے ۔ ایجوکیشن ٹسٹنگ سرویس ( ای ٹی ایس ) کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی جس کے ذریعہ یہ امتحان منعقد ہوتا ہے ۔ عہدیدار نے بتایا کہ GRE کی 80 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے جب امریکہ کے علاوہ کسی ملک میں زیادہ تعداد میں طلبا نے اس امتحان میں شرکت کی ہے ۔ ای ٹی ایس کے چیف ایگزیکیٹیو امیت سیوک نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس امتحان کی مانگ میں ہندوستان میں زیادہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ GRE کا آغاز 1936 میںہوا تھا اور اس کے ذریعہ گریجویٹ اسکولس میں داخلہ کا ٹسٹ ہوتا ہے ۔ اس کے ذریعہ طلبا کی تحریری ‘ تنقیدی صلاحیتوں ‘ مدلل وجوہات اور زبانی بول چال کی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے جو گریجویٹ اور بزنس اسکولس میں داخلہ پاتے ہیں جو امریکہ یا دوسرے ممالک میں ہوں۔ 2022-23 میں جن ممالک میں سب سے زیادہ تعداد میں طلبا نے جی آر ای امتحان میں شرکت کی ان میں ہندوستان سر فہرست ہے ۔ یہاں 113,304 طلبا نے یہ امتحان تحریر کیا جبکہ امریکہ میں 97,676 اور چین میں 57,769 طلبا نے یہ امتحان تحریر کیا تھا ۔ کہا گیا ہے کہ اس امتحان میں شرکت کرنے والے امریکی طلبا کی تعداد میں 61 فیصد گراوٹ آئی ہے جو 2019-20 کے اعداد و شمار کے مطابق ہے ۔ 2019-20 میں 250,274 امریکی طلبا نے یہ امتحان تحریر کیا تھا ۔ اس مدت میں ہندوستانی طلبا کی تعداد میں 62 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ 2019-20 میں69,835 طلبا نے حصہ لیا تھا ۔ کورونا وباء کے دوران اس تعداد میں کمی آئی تھی کیونکہ ٹسٹ مراکز کو لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں بند کردینا پڑا تھا اور درخواستوں کیلئے جامعات نے جی آر ای کی شرط کو ختم کردیا تھا ۔ کورونا وباء کے بعد سے بیشتر اداروں نے اس ٹسٹ کو بحال کردیا ہے ۔ واضح رہے کہ دنیا بھر میں اور خاص طور پر امریکہ میں تعلیمی ادارے جی آر ای کے نشانات کو اعلی تعلیم کیلئے اہم شرط مانتے ہیں۔ چونکہ ہندوستانی طلبا عالمی سطح پر اعلی تعلیمی اداروں کا رخ کرنے لگے ہیںایسے میں GRE ان کیلئے ایک فطری انتخاب بنتا جا رہا ہے ۔ جی آر ای ٹسٹ تحریر کرنے والے طلبا امریکہ کے تمام علاقوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں تاہم ان کیلئے جنوبی ‘ مغربی امریکی علاقے کینیڈا اور مغربی یوروپ کے ممالک سب سے زیادہ پسندیدہ رہے ہیں۔