جی او 111 سے دستبرداری سے تہذیبی ورثہ کو خطرہ

   

چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر جھوٹ کا سہارا لینے کا الزام : لبنیٰ ثروت
حیدرآباد۔16مارچ(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ نظام دکن کی جانب سے تعمیر کئے گئے تہذیبی ورثہ کو نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں اور جی او 111کی برخواستگی کیلئے عثمان ساگر اور حمایت ساگر کو ناکارہ ذخائر آب قرار دے رہے ہیں جبکہ دونوں ہی ذخائر آب مکمل طور پر کارکرد ہیں اور گذشتہ چند برسوں کے دوران ان ذخائر آب کی سطح آب مکمل ہونے پر ان سے پانی کا اخراج عمل میں لایا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ذخائر آب کی صفائی کی صورت میں ان میں مزید پانی جمع ہوسکتا ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ کی جانب سے گذشتہ یوم اسمبلی میں جی او 111 کی برخواستگی کے سلسلہ میں دیئے گئے بیان پر ماحولیات کے تحفظ کیلئے سرگرم تنظیموں اور جہد کاروں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جھوٹے پروپگنڈہ کے ذریعہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کو تباہ کرنے کی منظم سازش کر رہی ہے ۔ محترمہ لبنیٰ ثروت نے چیف منسٹر کے بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ہی ذخائر آب سے اب بھی شہر حیدرآباد کے کئی تالابوں تک پانی پہنچتا ہے اور دونوں تالابوں کی صفائی کرتے ہوئے اگر شہرحیدرآبادکو ان ذخائر آب سے پانی کی سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں دونوں ہی ذخائر آب کارکرد رہیں گے۔انہوں نے دونوں ذخائر آب کو فن تعمیر کا قدرتی شاہکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت ذخائر آب تعمیر کئے گئے اس وقت ان مقامات کا انتخاب کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی طور پر شہری علاقوں تک پانی کی سربراہی کے سلسلہ میں اقدامات کو یقینی بنانے کے امور کو نظر میں رکھا گیا تھا جس کے سبب آج بھی آصف نگر فلٹر بیڈ اور میر عالم فلٹر بیڈ تک دونوں ذخائر آب کا پانی پہنچتا ہے ۔انہو ںنے شہر حیدرآباد میں پینے کے پانی کا مسئلہ موجودہ حکومت کی جانب سے حل کرلئے جانے پر کہا کہ حکومت کی جانب سے قدرتی طور پر جمع ہونے والے پانی کو موسیٰ ندی میں ضائع کیا جا رہاہے اور پائپ لائن کے ذریعہ پانی شہر تک پہنچانے کے اقدامات کی بات کہی جارہی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔محترمہ لبنیٰ ثروت نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے جی او 111 کی برخواستگی کے ذریعہ شہر حیدرآباد کو تباہی کے دہانے پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ ماحولیات کے تحفظ اور شہریوں کے تحفظ کے لئے خدمات انجام دینے والے کارکنوں کی جانب سے ناکام بنایا جائے گا۔انہو ںنے بتایا کہ حالیہ عرصہ میں شہر حیدرآباد میں جو سیلاب کی صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کی بنیادی وجہ شہر حیدرآباد میں موجود تالابوں کی تباہی رہی اور بیشتر ان علاقوں میں پانی جمع ہوا جہاں تالابوں میں قبضہ کرتے ہوئے تعمیرات انجام دی گئی تھیں اور ان قبضہ جات کے سبب تالابوں میں پانی جمع ہونے کے بجائے شہری علاقوں میں داخل ہوگیا تھا۔ان کے علاوہ ریاست اور شہر حیدرآباد میں تالابوں کے تحفظ کے لئے سرگرم تنظیموں کے ذمہ داروں نے بھی چیف منسٹر کے بیان کی مذمت کی ۔۔ م