عوام اور کسانوں کی رائے حاصل کی جائے، کانگریس قائدین کودنڈا ریڈی اور مہیش گوڑ کا مطالبہ
حیدرآباد۔16۔ مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے چیف منسٹر کی جانب سے جی او 111 کو کالعدم قرار دینے کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ چیف منسٹر اپوزیشن کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں اور انہوں نے مشاورت کے بغیر ہی جی او 111 ختم کرنے کا اسمبلی میں اعلان کردیا۔ سابق رکن اسمبلی ایم کودنڈا ریڈی اور ورکنگ پریسیڈنٹ مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ رئیل اسٹیٹ اور حکومت سے قربت رکھنے والے افراد کو سہولت پہنچانے کیلئے جی او 111 کالعدم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ قائدین نے کہا کہ عثمان ساگر و حمایت ساگر کے آبگیر علاقہ میں برسر اقتدار پارٹی سے وابستہ افراد نے اراضیات پر قبضے کئے ہیں۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں حیدرآباد کی ترقی کیلئے ماسٹر پلان تیار کیا گیا تھا۔ ٹی آر ایس حکومت نے شہر میں بڑھتی آبادی اور نئے چیلنجس کے تحت کوئی منصوبہ بندی نہیں کی ہے۔ چیف منسٹر نے اپوزیشن سے مشاورت کے بغیر ہی جی او 111 کی برخواستگی کا اعلان کردیا ۔ چیف منسٹر کو بلیٹن جاری کرتے ہوئے اپنے اعلان کو ثابت کرنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی پالیسی فیصلے کی برخواستگی سے قبل اپوزیشن سے مشاورت کی جانی چاہئے ۔ جی او 111 کو کالعدم کرنے سے قبل عوام کی رائے حاصل کی جائے ۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ عثمان ساگر ذخیر آب کے بارے میں چیف منسٹر کا بیان افسوسناک ہے جس میں انہوں نے کہا کہ عوام کو اب گنڈی پیٹ سے پانی کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ جی او 111 کی برخواستگی سے واقف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی او کے بارے میں کسانوں اور عوام سے رائے حاصل کی جائے۔ اس جی او کے تحت 1.36 لاکھ ایکر اراضی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر خفیہ ایجنڈہ کے تحت جی او برخواست کر رہے ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ اس بارے میں صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دی جائے گی ۔ر