جی ایچ ایم سی اور دوباک کے نتائج کے سی آر کیلئے سبق

   


چیف منسٹر غلطی کا اعتراف کریں اور مسائل کو پیش کرنے اپوزیشن کو برقرار رکھیں: محمد علی شبیر

کاماریڈی :سینئر کانگریس قائد محمد علی شبیر نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے 4 سالوں میں کیا کیاکہتے ہوئے الزامات لگایا کرتی ہے جبکہ کانگریس پارٹی 60 سالوں میں کسانوں کا ساتھ دیتے ہوئے کسانوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کے علاوہ ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے اور اقل ترین قیمتوں کی ادائیگی کیلئے اقدامات کیا لیکن مود ی اقتدارپر آنے کے بعد امبانی ، ادانی کا ساتھ دیتے ہوئے 14 کارپوریٹ اداروں کو ان کے حوالے کیا اور ایل آئی سی ، ریلوے جیسے شعبوں کو فروخت کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہے انہوں نے ٹی آرایس پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آرایس پارٹی کسانوں کے مسئلہ پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہے اور کانگریس کے خلاف کام کرتے ہوئے کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے احتجاج کرنے والوں پر ٹی آرایس حکومت نے مقدمات درج کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جو پالیسی کے سی آر کی جانب سے اختیار کی گئی تھی اسی پالیسی پر اب یہ الٹا چل رہے ہیں سوال کرنے والی آواز کو ختم کرنے کیلئے دھرنا چوکوں کوبرخواست کیا گیا تھا اور قائدین میں کیسس درج کئے گئے تھے لیکن اب دھرنا چوک پر خود ہی بیٹھ کر دھرنا دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں اور مسائل کو پیش کرنے کیلئے اپوزیشن کو برقرار رکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں دوباک انتخابات کے سی آر کو سبق حاصل ہوا ہے اور عوام کے سی آر کی پالیسی سے واقف ہوتے ہوئے کانگریس پارٹی کو ووٹ نہیں دے رہی ہے کیونکہ کروڑوں روپئے کے سی آر منتخب قائدین کو خرید رہے ہیں جس کی وجہ سے عوام راست طور پر کانگریس پارٹی کا ساتھ دینے کے بجائے دیگر پارٹیوں کا ساتھ دے رہے ہیں جی ایچ ایم سی انتخابات میں روپئے اور شراب کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا ۔