6,224 کروڑ بجٹ کی منظوری ، میئر گدوال وجئے لکشمی کا اظہار تاسف
حیدرآباد۔/24 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن ( جی ایچ ایم سی ) گورننگ کونسل کا اجلاس بصدارت میئر گدوال وجئے لکشمی منعقد ہوا تاہم اجلاس میں بی جے پی کارپویٹرس کے مسلسل احتجاج کی وجہ سے ایجنڈہ میں شامل مختلف مسائل پر مباحث نہیں ہوسکے لیکن کونسل اجلاس میں مالی سال2023-24 کیلئے 6,224 کروڑ بجٹ کی منظوری دی گئی۔ چیرپرسن شریمتی گدوال وجئے لکشمی نے احتجاجی بی جے پی کارپوریٹرس سے بارہا اپیل کی کہ وہ اجلاس کی کارروائی میں خلل پیدا نہ کریں اور اپنے اپنے وارڈس کے مسائل کو پیش کریں‘ لیکن احتجاجی بی جے پی کے کارپوریٹرس نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا جس کی وجہ سے کونسل اجلاس کو مسائل پر مباحث کے بغیر ہی ختم کردیا گیا۔ احتجاجیوں نے میئر کو اجلاس کی کارروائی کے دوران مسلسل خلل اندازی کی اور احتجاجی کارپوریٹرس پوڈیم تک پہنچ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔ قبل ازیں جوں ہی اجلاس کا آغاز ہوا کارپوریٹرس نے میئر کے پوڈیم کو گھیرلیا اور ان کے مطالبات پر بحث کرنے کا پرزورمطالبہ کیا جس پر میئر انہیں احتجاج نہ کرنے کی مسلسل اپیل کرتی رہیں لیکن احتجاجیوں نے اپنے احتجاج کو جاری رکھا تو بالآخر میئر نے احتجاجی کارپوریٹرس کی معطلی کا اعلان کیا۔ دوران احتجاج میئر نے بجٹ کی منظوری کا اعلان کیا۔ اسی دوران کانگریس کے کارپوریٹرس نے دفتر جی ایچ ایم سی کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے ان کے ڈیویژنس کے لئے فنڈس منظور کرنے کا مطالبہ کیا اور بجٹ پر مباحث پر بھی زور دیا۔ جی ایچ ایم سی کونسل اجلاس اور اپوزیشن کے امکانی احتجاج کے پیش نظر پولیس کا معقول بندوبست کیا گیا تھا۔
کونسل اجلاس کے بعد میئر گدوال وجئے لکشمی نے میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے اجلاس کے دوران بی جے پی کے کارپوریٹرس کے مسلسل احتجاج پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اجلاس سے قبل تمام کارپوریٹرس کو پیشگی ایجنڈہ فراہم کیا گیا تھا تاکہ مسائل پر مباحث کے بعد حل کی کوشش کی جائے تاہم بی جے پی کارپوریٹرس نے ایجنڈہ کی اہمیت کو نہیں سمجھا، اگر سمجھتے تو مسائل پر مباحث کئے جاتے۔