محمد علی شبیر کے گیسٹ ہاوز کی دیوار توڑ دی گئی

,

   

برہم کسانوں کا راستہ روکنے پر اقدام، پولیس کو طلب کیا گیا

حیدرآباد۔8۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) جمہوریت میں عوام بادشاہ ہوتے ہیں اور منتخبہ نمائندے یا حکمراں طبقہ عوام کے خادم ہوتے ہیں اور جب بادشاہ برہم ہوتا ہے تو حکمراں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔دوسروں کی تباہی و بربادی کے لئے کوشش کرنے والوں کے مقدر میں تباہی ہوا کرتی ہے اس بات پر یقین رکھنا چاہئے ۔مشیر حکومت برائے اقلیتی بہبود و ایس سی‘ ایس ٹی جناب محمد علی شبیر کے گیسٹ ہاؤز کی دیوار کو برہم کسانوں نے توڑدیااور یہ ثابت کردیا کہ جمہوریت میں بادشاہ کا موقف رکھنے والے عوام اگر بادشاہت کے گر دکھانے پر آجائیں تو اینٹ سے اینٹ بجاسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلع میدک اور کاماریڈی کے درمیان موجود شیو نور علاقہ میں محمد علی شبیر کے گیسٹ ہاؤز کی دیوار کو مقامی عوام نے منہدم کرتے ہوئے اپنے کھیتوں کے لئے راستہ نکال لیا۔ احتجاجی کسان جو کہ سابق ریاستی وزیر کے گیسٹ ہاؤز کی دیوار کو منہدم کررہے تھے انہیں منتشر کرنے کے لئے پولیس نے طاقت کے استعمال کی کوشش کی لیکن برہم کسانوں نے احتجاج شروع کرتے ہوئے مشیر ریاستی حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی شروع کردی ۔ ریاستی حکومت کے مشیر کے عہدہ پر فائز محمد علی شبیر پر مقامی کسانوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے گیسٹ ہاؤز کے عقب میں موجود کھیتوں میں جانے کے راستہ کو محمد علی شبیر نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے بند کردیا تھا اور اس سلسلہ میں مسلسل نمائندگیوں کے باوجود سابق ریاستی وزیر اس دیوار کو ہٹانے کے لئے آمادہ نہیں تھے۔محمد علی شبیر کو کانگریس پارٹی ان کے اپنے حلقہ اسمبلی کاماریڈی اور حلقہ اسمبلی نظام آباد میں نظر انداز کرنے لگی ہے اور ان کے ستارے گردش میں نظر آرہے ہیں کیونکہ چند ماہ قبل ایک آڈیو ریکارڈنگ کے تنازعہ میں وہ بری طرح پھنس گئے تھے جس میں انہوں نے صدرپردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے ان پر پیسہ لیتے ہوئے عہدے دینے کا الزام عائد کیا تھا اور یہ معاملہ ریاستی کانگریس کی تادیبی کمیٹی میں بھی پہنچا تھااور انہیں صدرنشین تادیبی کمیٹی ملو روی ‘ اور جناب ظفر جاوید نے کمیٹی میں صفائی دینے کے لے طلب کیا تھا لیکن بعد ازاں محمد علی شبیر نے وائرل آڈیو میں موجود آواز کے متعلق بیان دیا تھا کہ وہ ان کی آواز نہیں ہے ۔ابھی وہ صدرپردیش کانگریس اور چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی سے جاری تنازعہ سے باہر نہیں آئے تھے کہ اب ’’شیونور‘‘ علاقہ میں موجود ان کے گیسٹ ہاؤز پر کسانوں کے حملہ اور دیوار منہدم کرتے ہوئے راستہ نکال لئے جانے کے سبب وہ دوبارہ سرخیوں میں آچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مشیر ریاستی حکومت کا یہ احساس ہے کہ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بھائی اے تروپتی ریڈی سے حلقہ اسمبلی کاماریڈی میں سیاسی سرگرمیوں کے معاملہ میں جاری تنازعہ کے سبب انہیں اور ان کی جائیدادوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ اے تروپتی ریڈی کے حامیوں نے اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ شبیر علی کے گیسٹ ہاؤز پر کسانوں کے حملہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔3