جی ایچ ایم سی عہدیدار ذاتی گاڑیوں کو کرائے کی گاڑیاں بتا رہے ہیں

   

26 عہدیداروں کو نوٹس جاری ، ماہانہ 27 لاکھ ، سالانہ 3 کروڑ روپئے وصول کرنے کا الزام

حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی ) میں چند عہدیداروں کی بے قاعدگیاں قابو سے باہر ہورہی ہیں ۔ قیمت طئے کرتے ہوئے عوامی خدمات جیسے بلز کی تیاری سے ادائیگیوں تک معمول وصول کیا جارہا ہے ۔ منظوریاں ، رہائشی دستاویزات کی اجرائی میں بے ضابطگیوں میں ملوث ہوتے ہوئے بلدیہ کے خزانے کو نقصان پہونچا رہے ہیں ۔ ذاتی گاڑیوں کو کرائے کی گاڑیاں بتاتے ہوئے لوٹ کھسوٹ کررہے ہیں ۔ اس طرح کی شکایتیں عام ہوجانے کے بعد جی ایچ ایم سی کے ٹرانسپورٹ شعبہ کے عہدیداروں نے 26 عہدیداروں کو نوٹس جاری کی ہے ۔ کونسی گاڑی کا استعمال کررہے ہیں ؟ وہ ذاتی ہے یا ٹیکسی پلیٹ گاڑی ہے ۔ ؟ اس کی وضاحت کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ جنہیں نوٹس جاری کی گئی ہے ۔ ان میں انجینئرنگ ، شہری منصوبہ بندی ، یو سی ڈی ، صفائی کے انتظام اور دیگر شعبوں کے عہدیدار شامل ہیں ۔ ڈرائیو کم اونر ( ڈی او سی ) اسکیم کے تحت ماضی میں 400 سے زیادہ کاروں کو بنک قرضوں کے ذریعہ بے روزگار نوجوانوں میں تقسیم کئے گئے ۔ چند عہدیداروں نے ڈی او سی ڈرائیورس کو ہراساں کیا اور انہیں ان کے پاس کام کرنے سے روکا ۔ بعد میں ان عہدیداروں نے اپنی کاروں کو کرائے کی گاڑیوں کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ۔ جی ایچ ایم سی میں 800 عہدیداروں کے لیے گاڑیوں کی سہولیات موجود ہے ۔ اس میں بلدیہ کی ذاتی گاریوں کے علاوہ کرائے کی گاڑیاں شامل ہیں ۔ ابتدائی تفتیش کی شناخت کے بعد 26 عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلات طلب کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ ہیڈ آفس زونل ، سرکل دفاتر کے حدود میں کتنے عہدیدار اپنی ذاتی کار اور کتنے عہدیدار کرائے کے گاڑیاں استعمال کررہی ہیں اس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ بہت جلد بے قاعدگیوں کا پردہ فاش ہوجائے گا ۔ ٹرانسپورٹ شعبہ کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 80 سے زیادہ عہدیدار اپنی ذاتی گاڑیوں کو کرائے کی گاڑیاں بتا رہے ہیں اور انہیں ماہانہ 27.20 لاکھ روپئے اور سالانہ 3.26 کروڑ روپئے ادا کئے جارہے ہیں ۔۔ 2