گھریلو پیدائش کے 74 سرٹیفکیٹس جاری ہونے کی نشاندہی
محکمہ پولیس کو جی ایچ ایم سی کا مکتوب
حیدرآباد ۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) کمشنر جی ایچ ایم سی المبرتی نے گریڈ حیدرآباد کے حدود میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران گھریلو پیدائش (ہوم ڈیلوری) کے برتھ سرٹیفکیٹس کی اجرائی کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اسپیشل برانچ (ایس بی) پولیس کے ذریعہ تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال جولائی تا ڈسمبر گریٹر حیدرآباد میں جاری کردہ گھریلو پیدائش سرٹیفکیٹس میں 34 سرٹیفکیٹس یوسف گوڑہ سرکل کے سشووہار میں رہنے والوں کے ہیں۔ مزید 40 سرٹیفکیٹس دیگر سرکلس کے ہونے کی کمشنر جی ایچ ایم سی نے نشاندہی کی ہے۔ موجودہ حالات میں قدم قدم پر ہاسپٹلس کا جال پھیلنے والے شہر میں گھروں میں بچوں کی پیدائش کہاں تک درست ہے۔؟ اس طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہونے کے بعد چھ ماہ کے دوران جو سرٹیفکیٹس جاری ہوئے ہیں، کیا اس میں کوئی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں؟ گریٹر حیدرآباد میں 30 سرکلس ہیں جو جی ایچ ایم سی کے ہیڈکوارٹرس میں موجود عملہ کو ملا کر 32 آپریٹرس کام کرتے ہیں۔ 10 تا 15 سال سے ایک ہی جگہ پر کام کرنے والے کمپیوٹر آپریٹرس کی کارکردگی کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔ وہ ان عہدوں پر کتنے عرصے سے کام کررہے ہیں، کس بنیاد پر ان کا تقرر ہوا ہے؟ ان کا ابھی تک تبادلہ کیوں نہیں ہوا۔ دیگر امور پر پولیس عہدیدار تحقیقات کریں گے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ اسسٹنٹ میونسپل کمشنر (اے ایم سی) جو سب رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اس کے علاوہ اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر (اے ایم او ایچ) کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔ کمشنر جی ایچ ایم سی کے حکم کے بعد گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے طبی شعبہ کے عہدیداروں نے تحقیقات کیلئے محکمہ پولیس کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ جی ایچ ایم سی کے ویجلنس تحقیقات کے ذریعہ حقائق سامنے آنے کے امکانات کم ہیں۔ اس لئے پولیس سے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے جمعہ کو بلدیہ کے شعبہ صحت کے عہدیداروں کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کرتے ہوئے پیدائش اور اموات کیلئے جاری کئے جانے والے سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا۔ اے ایم او ایچ اور دیگر عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔ 2
بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے والے عہدیداروں کو جیل روانہ کرنے کا انتباہ دیا اور شعبہ طب کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔2