مغربی بنگال میں دوسرے اور آخری مرحلہ کی آج ووٹنگ

,

   

142 حلقوں میں3.21کروڑ ووٹرس 1448امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے ‘ سخت سیکوریٹی انتظامات

کولکاتہ۔28؍اپریل ( ایجنسیز)مغربی بنگال میں دوسرے مرحلہ کیلئے رائے دہی چہارشنبہ 29 اپریل کو ہوگی۔ دوسرے مرحلہ کیلئے 7 اضلاع کی 142 سیٹوں پر ووٹنگ ہونی ہے۔۔مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کی مہم کل شام ختم ہو گئی۔ اس مرحلے میں 142 حلقوں میں کل ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے والے اسمبلی حلقوں میں آٹھ انتخابی اضلاع شامل ہیں جن میں کولکاتہ شمالی، کولکتہ جنوبی، ہاوڑہ، نادیہ، شمالی 24 پرگنہ، جنوبی 24 پرگنہ، ہگلی اور پوربا بردھمان شامل ہیں۔مغربی بنگال میں پہلے مرحلے کی پولنگ میں 23 اپریل کو ریکارڈ 93.19 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ چاروں ریاستوں کیرلام، آسام، مغربی بنگال،ٹاملناڈو اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے پڈوچیری میں ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ مرحلہ 2 میں ریاست بھر کے حلقوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پولنگ مقررہ وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ہوگی۔ اس مرحلے میں 142 حلقے شامل ہیں، جو اسے انتخابی عمل کا ایک اہم مرحلہ بناتا ہے۔3.21کروڑ رائے دہندے1448امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ کریں گے ۔ اس سے قبل ان ووٹرس کی فہرست بھی آ گئی ہے جن کے نام ایس آئی آر میں کٹ گئے تھے، لیکن انہوں نے ٹریبونل میں اپیل کی تھی۔ دوسرے مرحلہ کے لیے ٹریبونل نے ایسے 1468 ووٹرس کو شامل کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 1474 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا ہے، جن میں سے 1468 ووٹرس کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں جبکہ 6 ووٹرس کے نام کاٹ دیے گئے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ 23 اپریل کو ہوئی تھی اور اس میں ٹریبونل کی طرف سے 139 ووٹرس کو جائزے کے بعد شامل کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلہ کے لیے ٹریبونل نے 657 درخواستوں کا جائزہ لیا تھا اور ان میں سے 139 ووٹرس کے نام شامل کیے تھے۔ جبکہ 8 حذف کیے تھے اور 51 8 کو ’غلط درخواست‘ قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے لیے 1474 درخواستوں کا جائزہ لیا گیا جن میں سے 1468 کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور 6 حذف کیے گئے ہیں۔ اس میں غلط درخواست کی تعداد اس بار صفر بتائی گئی ہے۔دوسرے مرحلہ کے تحت مغربی بنگال میں 7 اضلاع کی 142 اسمبلی سیٹوں پر ووٹ ڈالے جانے ہیں اور ان علاقوں میں عدالتی تحقیقاتی عمل کے دوران 1287622 ووٹرس کے نام کاٹ دیے گئے تھے۔ پھر سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن کے مطابق ایس آئی آر ٹریبونل نے آج حتمی ووٹر لسٹ جاری کیا اور اب انہیں سپلیمنٹری ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ کے مقابلے میں اس بار شامل کیے ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے۔ پہلے مرحلہ میں صرف 139 نام ہی شامل کیے گئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر عمل شروع سے ہی بحث کا موضوع رہا۔ اس عمل کے دوران پورے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے تقریباً 90 لاکھ ووٹرس کے نام ہٹا دیے گئے، جو کل ووٹرس کے تقریباً 12 فیصد ہوتے ہیں۔ اس میں سے 60 لاکھ سے زائد لوگوں کو غیر حاضر یا فوت شدہ کے زمرے میں رکھا گیا، جبکہ 27 لاکھ لوگوں کا اسٹیٹس ٹریبونل کے سامنے زیر التوا رہا۔ تحقیقات کے دوران مبصرین نے پایا کہ جن لوگوں کا اسٹیٹس طے نہیں ہو پایا تھا، ان میں سے تقریباً 65 فیصد مسلم تھے، جبکہ دلت ہندو خاص طور سے ’متوآ برادری‘ کے لوگ بھی کچھ اضلاع میں کافی متاثر ہوئے۔